مری قسمت میں وصل اس کا اگر اے آسماں ہوتا
مری قسمت میں وصل اس کا اگر اے آسماں ہوتا تو تو بھی مہرباں ہوتا خدا بھی مہرباں ہوتا ستم کے بعد ہوتا ہے کرم بھی یہ اگر سچ ہے مرے دل پر بھی ایسا ہی ستم اے جان جاں ہوتا بلائیں لے کے دشمن مر گیا میری بلا سمجھے سمجھ میں میری جب آتا تماشا یہ یہاں ہوتا زمیں پر سونے والوں کو حقارت سے نہ ...