قومی زبان

آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوست

آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوست کانوں میں آ رہی ہے برابر صدائے دوست کیسی وفا ستم سے بھی اس نے اٹھائے ہاتھ رہ رہ کے یاد اب آتی ہے طرز جفائے دوست سینے میں داغ ہائے محبت کی ہے بہار پھولا ہے خوب یہ چمن دل کشائے دوست دل میں مرے جگر میں مرے آنکھ میں مری ہر جا ہے دوست اور نہیں ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوں

چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوں لے خبر میری بھی اے تیغ ادا میں بھی تو ہوں پی رہے ہیں سب پیالی پر پیالی بزم میں میری باری بھی تو آئے ساقیا میں بھی تو ہوں ذکر جب حور و پری کا سامنے ان کے ہوا پہلے تو سنتے رہے وہ پھر کہا میں بھی تو ہوں دخت رز زاہد سے بولی مجھ سے گھبراتے ہو ...

مزید پڑھیے

جہاں تک رنج دنیا ہے دئے جاؤ

جہاں تک رنج دنیا ہے دئے جاؤ ہمارے دل کے تم ٹکڑے کئے جاؤ فقط اک دل کے پیچھے ہم بگاڑیں خفا کیوں ہو رہے ہو لو لئے جاؤ لگا دو ہاتھ اک چلتے ہی چلتے ذرا سا کام ہے میرا کئے جاؤ نہ اٹھو غیر کی خاطر یہاں سے وہ خود آ جائے گا تم کس لئے جاؤ شرفؔ بھر بھر کے دیتے ہیں وہ خود جام پئے جاؤ پئے جاؤ ...

مزید پڑھیے

ہندوستانی لیڈر

لالچی کتنے خوشامد خور دولت کے غلام خود غرض مکار ابن الوقت جھوٹوں کے امام بندۂ حرس و ہوس غدار مطلب آشنا پیسے کی خاطر وطن کو بیچنے والے بتا کیا تجھے احساس محکومی کبھی ہوتا بھی ہے تو کبھی ہندوستاں کے حال پر روتا بھی ہے کیا سنی بھی ہے کبھی مزدوروں کے دل کی پکار کیا کبھی تو نے ...

مزید پڑھیے

ہولی

بج رہے ہیں مدھ بھری آواز میں ہولی کے ساز کھنچ کے آنکھوں میں نہ آ جائے دل حرماں نواز کھیلتی ہیں رنگ آپس میں کنواری لڑکیاں گیت ہولی کے زباں پر ہاتھ میں پچکاریاں نالیوں میں گر رہے ہیں لوگ پی پی کر شراب ملک میں شاید نہیں ان کے لیے کوئی عذاب دے رہا ہے گالیاں بے نطق ہر پیر و جواں واہ ...

مزید پڑھیے

دیوالی

رات کچھ تاریک بھی ہے اور کچھ روشن بھی ہے وقت کے ماتھے پہ شوخی بھی ہے بھولا پن بھی ہے بام و در پر آج مٹی کے دیے ہیں اس طرح آسمانوں پر ستارے جگمگائیں جس طرح راستوں پر ہیں دنادن کی صدائیں خوفناک زندگی سے موت گویا کر رہی ہے تاک جھانک ہو رہی ہیں ہر گلی کوچے میں آتش بازیاں آر رہا ہے ...

مزید پڑھیے

مرزا غالبؔ

اندھیری رات میں جب مسکرا اٹھتے ہیں سیارے ترنم پھوٹ پڑتا ہے مرے ساز رگ جاں سے کوئی انگڑائیاں لیتا جب آ جاتا ہے محفل میں تمنا کروٹیں لیتی ہے پیہم دکھ بھرے دل میں نگاہیں بادۂ رخ سے خمار آمیز ہوتی ہیں شرابی کی طرح جب جھومتی ہیں عشق کی نبضیں کوئی ٹیگورؔ کے جب میٹھے میٹھے گیت گاتا ...

مزید پڑھیے

وطن

اے وطن اے راحت و آرام کے دل کش دیار تیرے شہروں پر تصدق تیرے صحرا پر نزار حسن میں تو بے بدل ہے عشق میں تو لا جواب رام کی تجھ میں جوانی تجھ میں سیتا کا شباب کھیت تیرے رشک گلشن دشت تیرے لالہ زار تجھ کو بخشی ہے مشیت نے بساط زر نگار تجھ میں ہیں آباد دولت مند بھی نادار بھی سیم و زر کے ...

مزید پڑھیے

عورت

جا رہا ہے اپنی منزل کی طرف ماہ تمام جیسے قبروں کے مجاور جیسے مسجد کے امام خانقاہوں میں ہوا کرتا ہے جیسے بالعموم شیخ کی خدمت میں حاضر ہے مریدوں کا ہجوم اس طرح محراب میں رکھی ہے الہامی کتاب جیسے اک زاہد کا ایماں جیسے اک باسی گلاب طاق میں رکھی ہوئی ہے اک طرف اک جانماز عود کی ...

مزید پڑھیے

ہندوستان

مفلس یہاں نہیں ہیں کہ بیوہ یہاں نہیں ایسا کوئی نہیں ہے جو آفت نشان نہیں یہ بات مثل شمس عیاں ہے نہاں نہیں آزاد گر نہیں ہے تو ہندوستاں نہیں ذکر چمن زبان پر لایا نہ جائے گا اب قصۂ بہار سنایا نہ جائے گا محسوس کر رہا ہوں بتایا نہ جائے گا آزاد اگر نہیں ہے تو ہندوستاں نہیں ظلم و ستم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 805 سے 6203