قومی زبان

اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنی

اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنی جو نہ کرنا تھا وہ کئے ہی بنی اس ادا سے دل اس نے پھیرا آج کہ مجھے دوڑ کر لئے ہی بنی تیرے ہمراہ غیر کیوں آیا جس کی خاطر مجھے کئے ہی بنی دیکھا انجام عشق کا اے دل جان آخر ہمیں دیے ہی بنی دست نازک سے اس نے جام دیا آج مجھ کو شرفؔ پئے ہی بنی

مزید پڑھیے

گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا

گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا میں لے کر دھجیاں دامن سے نکلا کہیں جلوہ بھی پردے میں رہا ہے وہ دیکھو نور اک چلمن سے نکلا جنوں نے راہ یہ اچھی نکالی گریباں پہاڑ کر دامن سے نکلا بہار آئی چمن میں کھل گئے پھول کوئی ہنستا ہوا گلشن سے نکلا روانی اشک کی ہوتی نہیں بند عجب دریا مرے دامن سے ...

مزید پڑھیے

ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میں

ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میں دیکھتا ہوں وہی نگاہوں میں سیر کو آ گیا وہ جان جہاں پڑ گئی جان سیر گاہوں میں اب تو مے خانوں سے بھی کچھ بڑھ کر جام چلتے ہیں خانقاہوں میں میرا دعویٰ ہے عشق میں سچا دیدۂ تر ہیں دو گواہوں میں بد گمانی نہ کر شرفؔ پہ کہ وہ دل سے ہے تیرے خیر خواہوں میں

مزید پڑھیے

دل کو یوں لے جانے والا کون تھا

دل کو یوں لے جانے والا کون تھا تھے تمہیں اور آنے والا کون تھا حضرت ناصح بھی مے پینے لگے اب مجھے سمجھانے والا کون تھا ساتھ اپنے دل بھی میرا لے گیا دیکھنا یہ جانے والا کون تھا جس کو چاہا تو نے اس کو مل گیا ورنہ تجھ کو پانے والا کون تھا بولے قاصد سے شرفؔ کے نام پر وہ ہمیں بلوانے ...

مزید پڑھیے

پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیں

پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیں نگاہیں بن گئیں خود جلوہ گاہیں کہے مجھ سے نہ کوئی ضبط غم کو ابھی منہ سے نکل جائیں گی آہیں سلوک اپنا ہے ان کے نقش پا پر یہی ہیں منزل عرفاں کی راہیں انہیں دیکھیں وہ دیکھیں یا نہ دیکھیں انہیں چاہیں وہ چاہیں یا نہ چاہیں چلائے تھے جنہوں نے تیر دل پر ہم ...

مزید پڑھیے

ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کا

ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کا جام مے بن گیا اک مست خود آرائی کا جی میں آتا ہے کہ پھولوں کی اڑا دوں خوشبو رنگ اڑا لائے ہیں ظالم تری رعنائی کا میں ابھی ان کو شناسائے محبت کر دوں کاش موقع تو ملے ان سے شناسائی کا بھول جاؤ گے یہاں آ کے تم اپنا عالم تم نے دیکھا نہیں گوشہ مری تنہائی ...

مزید پڑھیے

گنگ و جمن

کنج قفس میں جلوۂ صحن چمن کہاں بلبل تو ڈھونڈھتی ہے گل و یاسمن کہاں گم ہو گئی ہے آ کے جہاں راہ کوئے دوست لایا بھی تو مجھے مرا دیوانہ پن کہاں سرمایۂ نشاط سہی آمد بہار لیکن اسے نصیب ترا بانکپن کہاں اے وہ مرے شباب کی راتیں گزر گئیں اب وہ مری نشاط بھری انجمن کہاں شاطرؔ چلو بسائیں ...

مزید پڑھیے

تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا

تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا لگی نہ دل کی تجھے دل لگا کے دیکھ لیا کسی نے داد نہ دی کچھ فسانۂ دل کی انہیں بھی درد محبت سنا کے دیکھ لیا کسے امید تھی آؤ گے تم دم آخر بڑا کمال کیا تم نے آ کے دیکھ لیا کہا تھا میں نے کہ دشوار دل کا لینا ہے وہ بولے دور سے مجھ کو دکھا کے دیکھ لیا غضب ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہے

نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہے گلے میں ہیں بانہیں گلا ہو رہا ہے وہ اٹھلا کے میری طرف آ رہے ہیں قیامت کا وعدہ وفا ہو رہا ہے گلے پر جو رک رک کے چلتا ہے خنجر یہ پورا مرا مدعا ہو رہا ہے مری بے خودی پر نظر کیا ہو اس کو وہ خود محو ناز و ادا ہو رہا ہے وہ ہمراہ لے کر گئے ہیں عدو کو ذرا ہم ...

مزید پڑھیے

ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کر

ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کر اب نکالیں وہ کوئی ظلم جفا سے بڑھ کر سر تسلیم ہے خم تیری رضا کے آگے دے وہ رتبہ جو ہے تسلیم و رضا سے بڑھ کر کمسنی جن کی ہمیں یاد ہے اور کل کی ہی بات آج انہیں دیکھیے کیا ہو گئے کیا سے بڑھ کر اللہ اللہ خصوصیت ذات حسنین ساری امت کے ہیں پوتوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 804 سے 6203