قومی زبان

ہوش ساقی کو نہ خم کا ہے نہ پیمانے کا

ہوش ساقی کو نہ خم کا ہے نہ پیمانے کا اس طرح حال یہ ابتر ہوا میخانے کا شدت غم سے نکل ہی پڑے آخر آنسو شمع سے سوز نہ دیکھا گیا پروانے کا جاں بحق ہو گیا ہوتا یہ کبھی کا بیمار گر یقیں ہوتا نہ اس شوخ کے آ جانے کا دیر بنتا ہے حرم اور حرم دیر کبھی کعبہ کہتے ہیں جسے نام ہے بت خانے کا طوق و ...

مزید پڑھیے

خود کو نہ میں گراؤں خود اپنی نگاہ سے

خود کو نہ میں گراؤں خود اپنی نگاہ سے یا رب بچائے رکھنا مجھے اس گناہ سے حرف طلب زبان پہ لایا غضب کیا اک دوست آج اور گیا رسم و راہ سے تشبیہ مہر و ماہ کا یہ اہتمام ہے پتھر اٹھا کے لائے ہیں ہم ان کی راہ سے چھوڑا جو اس نے زیست بھی یہ کہہ کے اٹھ گئی میں نے بھی آج ہاتھ اٹھایا نباہ ...

مزید پڑھیے

ہے شیخ و برہمن پر غالب گماں ہمارا

ہے شیخ و برہمن پر غالب گماں ہمارا یہ جانور نہ چر لیں سب گلستاں ہمارا تھی پہلے تو ہماری پہچان سعئ پیہم اب سر برہنگی ہے قومی نشاں ہمارا ہر ملک اس کے آگے جھکتا ہے احتراماً ہر ملک کا ہے فادر ہندوستاں ہمارا زاغ و زغن کی صورت منڈلایا آ کے پیہم کسٹوڈین نے دیکھا جب آشیاں ہمارا مکر و ...

مزید پڑھیے

جو مست جام بادۂ عرفاں نہ ہو سکا

جو مست جام بادۂ عرفاں نہ ہو سکا وہ جانور ہی رہ گیا انساں نہ ہو سکا جو بھی شریک محفل رنداں نہ ہو سکا وہ بے وقوف کامل ایماں نہ ہو سکا واعظ بھی ہیں وہ ذات گرامی کہ الحذر ہم پلہ جن کا دہر میں شیطاں نہ ہو سکا فطرت بدل سکی نہ کبھی میرے دوست کی لہبڑ کسی طرح سے بھی ٹوئیاں نہ ہو سکا دامان ...

مزید پڑھیے

خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں تمہارے پیار کا قرضہ چکا کے آئی ہوں چراغ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود تمہاری آنکھوں کے دیپک بجھا کے آئی ہوں پرانے پیڑ مرے ساتھ ساتھ روتے رہے جو نام مل کے لکھے تھے مٹا ...

مزید پڑھیے

زندگی تیرے ناکام لوگوں نے

زندگی تیرے ناکام لوگوں نے تو مشکلوں سے ہمیشہ گزارا کیا ریگزاروں میں بیٹھے سلگتے ہوئے خواب بنتے رہے درد چنتے رہے دل کے پاگل سروں پر اداسی کے ہی گیت سنتے رہے سر کو دھنتے رہے گیت گاتے ہوئے زخم بنتے ہوئے خواب چنتے ہوئے دشت در دشت جیون کی گٹھری اٹھائے ہی چلتے رہے سانس کی دھونکنی یوں ...

مزید پڑھیے

اپنا ہر دکھ خود سے کہنا

خود ہی اپنی سکھی سہیلی دن بھر کی سب چھوٹی سے بھی چھوٹی باتیں دور کسی گنجان سڑک پہ چلتے چلتے جب پاؤں اک پتھر سے ٹکرایا تھا تو کیسے میں چھوئی موئی سی بیچ سڑک اس شام گری تھی میری چادر تیز ہوا سے دور تلک اڑتی ہی گئی تھی نوسر باز ہوا سے کیسے دھوکا کھایا اچھی بری نظریں دنیا کی اپنی ہار ...

مزید پڑھیے

اردو زبان

چرچا ہر ایک آن ہے اردو زبان کا گرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا اس لشکری زبان کی عظمت نہ پوچھیے عظمت تو خود نشان ہے اردو زبان کا گمنامیوں کی دھوپ میں جلتا نہیں کبھی جس سر پہ سائبان ہے اردو زبان کا مشرق کا گلستاں ہو کہ مغرب کا آشیاں ویران کب مکان ہے اردو زبان کا سوداؔ و میرؔ و ...

مزید پڑھیے

بھولے سے کبھی میری جانب جب ان کی نظر ہو جاتی ہے

بھولے سے کبھی میری جانب جب ان کی نظر ہو جاتی ہے ہنگامے بپا ہو جاتے ہیں عالم کو خبر ہو جاتی ہے میری شب فرقت کی ظلمت مرہون تجلی ہو نہ سکی ہوگی وہ کسی کے وصل کی شب جس شب کی سحر ہو جاتی ہے کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں کاٹے سے نہیں جو کٹتے ہیں کچھ ایسی بھی راتیں آتی ہیں باتوں میں سحر ہو جاتی ...

مزید پڑھیے

صنم کے صنم تھے پتھر ہماری تاب نظر سے پہلے

صنم کے صنم تھے پتھر ہماری تاب نظر سے پہلے جبیں میں سجدے تڑپ رہے تھے نہ جانے کیوں سنگ در سے پہلے تو راہزن تو نہیں ہے پوچھوں میں کس طرح ہم سفر سے پہلے سوال ایسا کیا نہیں ہے کسی نے بھی راہبر سے پہلے عجیب راہ عدم ہے پر ختم ہر ایک راہی کو ہے یہی غم یہ راز کھلتا نہیں کسی پر جہاں میں عزم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 790 سے 6203