خود کو نہ میں گراؤں خود اپنی نگاہ سے

خود کو نہ میں گراؤں خود اپنی نگاہ سے
یا رب بچائے رکھنا مجھے اس گناہ سے


حرف طلب زبان پہ لایا غضب کیا
اک دوست آج اور گیا رسم و راہ سے


تشبیہ مہر و ماہ کا یہ اہتمام ہے
پتھر اٹھا کے لائے ہیں ہم ان کی راہ سے


چھوڑا جو اس نے زیست بھی یہ کہہ کے اٹھ گئی
میں نے بھی آج ہاتھ اٹھایا نباہ سے


سمجھے نہ کوئی بات تو یہ اور بات ہے
کچھ تو نگاہ کہتی تھی پیہم نگاہ سے


شاید نہیں یہ بات مرے قاتلوں کو یاد
قسمت نکال لاتی ہے یوسف کو چاہ سے