قومی زبان

نئی بزم عیش و نشاط میں یہ مرض سنا ہے کہ عام ہے

نئی بزم عیش و نشاط میں یہ مرض سنا ہے کہ عام ہے کسی لومڑی کو ملیریا کسی مینڈکی کو زکام ہے یہ عجیب ساقیٔ ماہ وش ترے مے کدے کا نظام ہے ہوا جیسے تو بھی دیوالیہ نہ تو خم نہ مے ہے نہ جام ہے یہاں ذکر آب و طعام کیا یہاں کھانا پینا حرام ہے یہاں برت رکھتے ہیں روز سب یہاں روز ماہ صیام ہے نہ ...

مزید پڑھیے

زلف دراز سے یہ نمایاں ہے غالباً

زلف دراز سے یہ نمایاں ہے غالباً بھالو کی شکل کا کوئی انساں ہے غالباً قول و عمل میں جس کے نظر آئے کچھ تضاد وہ مولوی نہیں کوئی شیطاں ہے غالباً گلشن میں تو گلوں کا کہیں نام تک نہیں یہ باغباں کے ہاتھ میں گھوئیاں ہے غالباً ہوتا ہے اس کی شوخئ گفتار پر گماں لہبڑ نہیں ہے یہ کوئی ٹوئیاں ...

مزید پڑھیے

گر بت کم سن دام بچھائے

گر بت کم سن دام بچھائے بلبلیں کیا ہیں ہاتھی پھنسائے ان سے نگاہیں کون ملائے تیوری چڑھی ہے منہ ہیں پھلائے مسند زر پہ بیٹھا ہے واعظ کھینسیں نکالے چندیا گھٹائے اس سے وہ ملتے رہتے ہیں اکثر روز انہیں جو چائے پلائے محو خرام ناز ہے کوئی زلفوں میں کڑوا تیل لگائے رات کو اکثر شیخ حرم ...

مزید پڑھیے

دیکھتے ہیں جب کبھی ایمان میں نقصان شیخ

دیکھتے ہیں جب کبھی ایمان میں نقصان شیخ اونے پونے بیچ ڈالا کرتے ہیں ایمان شیخ بعد مدت کے جہاں میں رہزنوں کے دن پھرے سنتے ہیں پھر ہو گئے ہیں اب پولس کپتان شیخ ہر زباں پر ذکر حق اور دل میں ہے یاد بتاں یہ نہیں کھلتا کہ ہیں انسان یا شیطان شیخ اہل شر تو آپ کو کہتے ہیں عم محترم اور ...

مزید پڑھیے

ایمان کی لغزش کا امکان ارے توبہ

ایمان کی لغزش کا امکان ارے توبہ بد چلنی میں زاہد کا چالان ارے توبہ اٹھ کر تری چوکھٹ سے ہم اور چلے جائیں انگلینڈ ارے توبہ جاپان ارے توبہ ہے گود کے پالوں سے اب خوف دغا بازی یہ اپنے ہی بھانجوں پر بہتان ارے توبہ انسانوں کو دن دن بھر اب کھانا نہیں ملتا مدت سے فروکش ہیں رمضان ارے ...

مزید پڑھیے

نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے

نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے یہ کلہڑ کوئی جام جم نہیں ہے وہ روئے خشمگیں کچھ کم نہیں ہے نہ ہو گر ہاتھ میں بلم نہیں ہے بس اک بہر بنی آدم نہیں ہے جہاں میں ورنہ گیہوں کم نہیں ہے نقاب الٹی ہے یہ کہہ کر کسی نے کہ اب تو کوئی نامحرم نہیں ہے ہزاروں چاہنے والے ہیں ان کے کم ان کی آج کل ...

مزید پڑھیے

خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ

خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ کانپتے ہاتھوں سے ظالم نے جو موڑا کاغذ نہ تو نیلا نہ تو پیلا نہ تو اجلا کاغذ چاہئے ان کے تلون کو ترنگا کاغذ صفحۂ دل پہ نظر آتے ہیں اب داغ ہی داغ گود ڈالا کسی کمبخت نے سارا کاغذ باغباں کے ستم و جور جو لکھتے بیٹھے لگ گیا رم کا رم اور دستہ کا دستہ ...

مزید پڑھیے

رخ روشن کو بے نقاب نہ کر

رخ روشن کو بے نقاب نہ کر دل کی دنیا میں انقلاب نہ کر آئنہ رکھ نہ سامنے اس کے حسن خودبیں کو لا جواب نہ کر چار سو جلوہ گر تو ہی تو ہے آئنہ خانہ میں حجاب نہ کر میرے نغموں میں کیف غم بھر دے مجھ کو منت کش رباب نہ کر میری اختر شماریاں مت پوچھ اپنے وعدوں کا کچھ حساب نہ کر بخت دازوں کو ...

مزید پڑھیے

ابھی تک چشم قاتل سے پشیمانی نہیں جاتی

ابھی تک چشم قاتل سے پشیمانی نہیں جاتی ندامت خون ناحق کی بہ آسانی نہیں جاتی حقیقت پردۂ باطل میں چھپ جائے یہ نا ممکن پس فانوس بھی شعلوں کی عریانی نہیں جاتی فرشتے محو حیرت رہ گئے پرواز انساں پر وہاں پہنچا جہاں تک عقل انسانی نہیں جاتی ستم گاری اثر کرتی نہیں رنگیں طبیعت پر قفس میں ...

مزید پڑھیے

دل گیا دل سے دل کی بات گئی

دل گیا دل سے دل کی بات گئی وہ گئے لذت حیات گئی غنچے افسردہ پھول پژمردہ فصل گل جیسے ان کے سات گئی ان کے جلوے نگاہ میں نہ رہے رونق بزم کائنات گئی دل ناداں کو لاکھ سمجھایا کچھ نہ سمجھا یہ ساری رات گئی سایۂ زلف میں جو گزری تھی کون جانے کدھر وہ رات گئی اٹھ گیا پردۂ اجل جس دم اک حیات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 789 سے 6203