سفر کہنے کو جاری ہے مگر عزم سفر غائب
سفر کہنے کو جاری ہے مگر عزم سفر غائب یہ ایسا ہے کہ جیسے گھر سے ہوں دیوار و در غائب ہزاروں مشکلیں آئیں وفا کی راہ میں مجھ پر کبھی منزل ہوئی اوجھل کبھی راہ سفر غائب عجب منظر یہ دیکھا ہے خرد والوں کی بستی میں یہاں سر تو سلامت تھے مگر فکر و نظر غائب حسیں موسم نے نظریں پھیر لیں اپنے ...