قومی زبان

فیملی پلاننگ

اے مرے بچے مرے لخت جگر پیدا نہ ہو یاد رکھ پچھتائے گا تو میرے گھر پیدا نہ ہو تجھ کو پیدائش کا حق تو ہے مگر پیدا نہ ہو میں ترا احسان مانوں گا اگر پیدا نہ ہو ہم نے یہ مانا کہ پیدا ہو گیا کھائے گا کیا گھر میں دانے ہی نہ پائے گا تو بھنوائے گا کیا اس نکھٹو باپ سے مانگے گا کیا پائے گا ...

مزید پڑھیے

آنکھ کی جاگیر اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں

آنکھ کی جاگیر اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں آنسوؤں کے دام میں لیکن ملا کچھ بھی نہیں ہے پرانا پیڑ برگد کا اسے سب علم ہے پنچھیوں کو تھا بھرم یہ جانتا کچھ بھی نہیں کچھ تو کہنا چاہتی تھی میری خاموشی تمہیں تم بڑے مصروف تھے تم نے سنا کچھ بھی نہیں اس دل ناشاد کا الزام اس کے سر ہو کیوں وہ ...

مزید پڑھیے

کیا سچ میں اتنے اچھے ہو

کیا سچ میں اتنے اچھے ہو یا باتیں اچھی کرتے ہو مجھ کو بھی ضد ہے میں دیکھوں تم کیسے غصہ کرتے ہو آنسو کیسے اب ٹھہریں گے ان آنکھوں میں تم ٹھہرے ہو دنیا بھی ویسے پیاری ہے تم مجھ کو بے حد پیارے ہو اک کونا اس میں میرا ہے گھر وہ جس میں تم رہتے ہو سب راہیں آساں ہے جانا مشکل تو تم ہی لگتے ...

مزید پڑھیے

رت سہانی ہے اس کی آنکھوں میں

رت سہانی ہے اس کی آنکھوں میں رات رانی ہے اس کی آنکھوں میں دل کی خواہش ہے ڈوب مرنے کی اتنا پانی ہے اس کی آنکھوں میں دیکھ بھر لے تو کھل اٹھے گلشن وہ جوانی ہے اس کی آنکھوں میں عشق جو جاودانی ہوتا ہے جاودانی ہے اس کی آنکھوں میں ہیر رانجھے کو جس میں جینا ہے وہ کہانی ہے اس کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

لب کی لرزش جبیں پہ رکھ دینا

لب کی لرزش جبیں پہ رکھ دینا سارے شکوہ وہیں پہ رکھ دینا التجا دھڑکنوں کی سن لینا بہکی سانسیں یہیں پہ رکھ دینا ہے سیاہی جو تیرے اشکوں کی آنکھ کی سرمگیں پہ رکھ دینا چاند کتنا فلک پہ تنہا ہے اس کو لا کر زمیں پہ رکھ دینا اتنی شدت سے کون چاہے گا تم یہ ذمہ ہمیں پہ رکھ دینا یار یہ عشق ...

مزید پڑھیے

آج نظریں چرا رہا تھا بہت

آج نظریں چرا رہا تھا بہت جو کبھی آشنا رہا تھا بہت آنسوؤں میں ڈبا کے ختم کیا ایک رشتہ تھکا رہا تھا بہت دور جانا تو طے ہی تھا اس کا شخص وہ ہم کو بھا رہا تھا بہت ہم سے بھی انتظار ہو نہ سکا وقت بھی وہ لگا رہا تھا بہت موت نے عین تب ہی دستک دی جب یہ جینا لبھا رہا تھا بہت

مزید پڑھیے

واہ ! آپ کی تو بیوی ہے

شوکت تھانوی باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے ۔ ایک بار بیوی کے ساتھ کراچی جارہے تھے ۔ جس ڈبہ میں ان کی سیٹ تھی وہ نچلی تھی ۔ اوپر کی سیٹ پرایک موٹے تازے آدمی براجمان تھے ۔ شوکت صاحب نے اٹھ کر انہیں غور سے دیکھا پھر چھت کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’سبحان اللہ قدرت۔‘‘ وہ آدمی بولا۔’’کیا مجھ ...

مزید پڑھیے

ملک الموت کی عنایت

ایک دفعہ شوکت تھانوی سخت بیمار پڑے ۔یہاں تک کہ ان کے سر کے سارے بال جھڑگئے ۔ دوست احباب ان کی عیادت کو پہنچے اور بات چیت کے دوران ان کے گنجے سر کو بھی دیکھتے رہے ۔ سب کو متعجب دیکھ کر شوکت تھانوی بولے: ’’ملک الموت آئے تھے ۔ صورت دیکھ کر ترس آگیا ۔ بس صرف سر پر ایک چپت رسیدکرکے چلے ...

مزید پڑھیے

بارہ سنگھا

پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس ۔ پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری جز’’سنگھا‘‘ تھا۔ جب ان کے بارہواں لڑکا پیدا ہوا تو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔ اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا۔ ’’آپ اس کا نام ‘‘ بارہ سنگھا ‘‘ رکھ دیجئے ۔‘‘

مزید پڑھیے

بے وقوف کی پہچان

ایک ناشر نے کتابوں کے نئے گاہک سے شوکت تھانوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا۔’’آپ جس شخص کا ناول خرید رہے ہیں وہ یہی ذات شریف ہیں لیکن یہ چہرے سے جتنے بیوقوف معلوم ہوتے ہیں اتنے ہیں نہیں ۔‘‘ شوکت تھانوی نے فوراً کہا: ’’جناب مجھ میں اور میرے ناشر میں یہی بڑا فرق ہے ۔یہ جتنے بے وقوف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 763 سے 6203