قومی زبان

بے وفا کے کوچے میں

نوعمر ی کے زمانے میں شوکت تھانوی نے ایک غزل کہی اور بڑی دوڑ دھوپ کے بعد ماہنامہ’’ترچھی نظر‘‘ میں چھپوانے میں کامیاب ہوگئے ۔ غزل کا ایک شعر تھا ۔ ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے ترے کوچے میں جاکر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں شوکت تھانوی کے والد کی نظر سے اپنے صاحبزادے کایہ ...

مزید پڑھیے

یورپ کو روانگی اور بیوی کا خدشہ

شوکت تھانوی یورپ کے لئے روانہ ہونے لگے تو ان کے ایک دوست نے پوچھا:’’روانگی کب ہوگی؟‘‘ شوکت نے کہا: ’’کیا بتاؤں۔تمہاری بھابی نے پریشان کررکھا ہے ۔ کہتی ہے ولایت جاؤ گے تو تم میم ضرور لاؤ گے ۔ حالانکہ میں نے قسم کھاکر کہا ہے کہ اگر اپنے لیے میم لایا تو تمہارے لئے بھی ایک صاحب ...

مزید پڑھیے

غم میں ہر لب پہ وہی آہ و بکا آتی ہے

غم میں ہر لب پہ وہی آہ و بکا آتی ہے مختلف ساز ہیں اور ایک صدا آتی ہے ہو کے زنداں سے جو گلشن کی ہوا آتی ہے اور دیوانوں کو دیوانہ بنا آتی ہے پست ہوتی ہے جہاں اہل دلا کی ہمت اس جگہ کام غریبوں کی دعا آتی ہے مجھ سے ہر حال میں اچھا ہے تصور میرا کم سے کم آپ کی تصویر بنا آتی ہے جب جفاؤں سے ...

مزید پڑھیے

دیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بت خانے میں ہے

دیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بت خانے میں ہے ڈھونڈھتا ہوں جس کو میں وہ میرے کاشانے میں ہے یہ ترا حسن تصور تیرے کاشانے میں ہے تو نہ آبادی میں ہے غافل نہ ویرانے میں ہے ہے بجائے خود زمانہ بیکسی میں مبتلا اب مروت کا نشاں اپنے نہ بیگانے میں ہے اس کی حسرت دیکھیے اس کا کلیجہ دیکھیے راز ...

مزید پڑھیے

اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا

اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا اک خواب تھا اور خواب بھی تعبیر نما تھا اب تک وہ سماں یاد ہے جب ہوش بجا تھا ہر شے میں مجھے لطف تھا ہر شے میں مزا تھا تم جور و جفا مجھ پہ نہ کرتے تو برا تھا ہوتے نہ اگر ظلم تو کیا لطف وفا تھا کچھ یاد ہیں آغاز محبت کی وہ باتیں اور بھولنے والے یہی ...

مزید پڑھیے

ہو راہزن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب

ہو راہزن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب مری نگاہ نے کھائے نظر نظر کے فریب یہ بت کدہ یہ کلیسا یہ مسجدیں یہ حرم یہ سب فریب ہیں اور ایک سنگ در کے فریب سمجھ رہے تھے کہ اشکوں سے ہوگا دل ہلکا نہ جانتے تھے کہ ہیں یہ بھی چشم تر کے فریب پتہ چلا کہ ہر اک گام میں تھی اک منزل کھلے ہیں منزل مقصود ...

مزید پڑھیے

آٹا

حضرت آدم پہ جو گزری ہے سب کو یاد ہے دانۂ گندم کی زندہ آج تک بیداد ہے آج پھر اولاد آدم پر وہی افتاد ہے اس کا بانی بھی فرشتوں کا وہی استاد ہے دور دورہ آج اس کا چور بازاروں میں ہے ماہرین چور بازاری کے غم خواروں میں ہے ان میں دیکھا اس کا جلوہ جو ذخیرہ باز ہیں دفن تہہ خانوں میں جن کے ...

مزید پڑھیے

وزیر کا فرمان

لوگو مجھے سلام کرو میں وزیر ہوں گردن کے ساتھ خود بھی جھکو میں وزیر ہوں گردن میں ہار ڈال دو میں جھک سکوں اگر نعرے بھی کچھ بلند کرو میں وزیر ہوں تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورے پر آؤں جب موٹر کے ساتھ ساتھ چلو میں وزیر ہوں لکھے ہیں شاعروں نے قصائد مرے لیے ایک آدھ نظم تم بھی کہو میں وزیر ...

مزید پڑھیے

پیرانہ سالی اور انگریز خاتون سے شادی

ابوالاثر حفیظ جالندھری نے پیرانہ سالی میں جب انگریز خاتون سے شادی کے بارے میں سوچا تو تذبذب کے عالم میں انہوں نے جب شوکت تھانوی سے مشورہ کیا تو شوکت نے کہا: ’’حفیظ صاحب ، اس سے قبل کہ وہ بیوۂ حفیظ بن جائے، آپ شادی کرلیں۔‘‘

مزید پڑھیے

جو ہم انجام پر اپنی نظر اے باغباں کرتے

جو ہم انجام پر اپنی نظر اے باغباں کرتے چمن میں آگ دے دیتے قفس کو آشیاں کرتے اجل کمبخت آتی ہے نہیں در پر ترے ورنہ ہم ایسی موت پر بھی زندگانی کا گماں کرتے سہی افشائے راز عشق لیکن یہ مصیبت ہے نہ کرتے سجدہ تیرے در پر آخر تو کہاں کرتے ہمیں دیر و حرم میں قید رکھا بد نصیبی نے جہاں سجدہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 764 سے 6203