قومی زبان

وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے

وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے ابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہے مرا دل بھی عجب خالی ویا ہے کسی کی یاد نے جس کو بھرا ہے پرندے شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں یہ کیسا خوف خیمہ زن ہوا ہے مری خاموشیوں کی جھیل میں پھر کسی آواز کا پتھر گرا ہے محبت کا مقدر دیکھتے ہو ہوا نے کچھ تو پانی پر لکھا ہے اسی ...

مزید پڑھیے

پاؤں پتوں پہ دھیرے سے دھرتا ہوا

پاؤں پتوں پہ دھیرے سے دھرتا ہوا وہ گزر جائے گا یوں ہی ڈرتا ہوا بوجھ سورج کا سر پر اٹھانے کو ہے ایک سایہ ندی میں اترتا ہوا شام ساحل پہ گم صم سی بیٹھی ہوئی اور دریا میں سونا بکھرتا ہوا تیرے آنے کی اس کو خبر کس نے دی ایک آشفتہ سر ہے سنورتا ہوا دیکھتا رہ گیا اپنی پرچھائیاں وقت گزرا ...

مزید پڑھیے

یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی

یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی یہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کی چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر مری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی ابھی نہ انگلی اٹھا مجھ پہ تھوڑی مہلت دے تمیز ...

مزید پڑھیے

وفا کی خو پس جاہ و جلال رہ گئی تھی

وفا کی خو پس جاہ و جلال رہ گئی تھی انا کے خول میں وہ بے مثال رہ گئی تھی کھٹک رہی ہے نہ جانے کیوں آج بھی دل میں جو ایک بات درون سوال رہ گئی تھی ملا جو موقع تو ہم فائدہ اٹھائیں گے کہ پچھلی بار ادھوری دھمال رہ گئی تھی جناب قیس بھی مرنے میں حق بہ جانب تھے کہ شہر بھر میں وہی خوش خصال رہ ...

مزید پڑھیے

جو بھی ہے حسب حال کھینچیں گے

جو بھی ہے حسب حال کھینچیں گے اس کا نقشہ کمال کھینچیں گے چٹکی کاٹے گی وہ شرارت سے اور ہم اس کے بال کھینچیں گے تجھ کو مجھ سے ملانے والے لوگ دونوں جانب سے مال کھینچیں گے یار لمحوں میں سامنے ہوگا اس طرح ماہ و سال کھینچیں گے بھرنے والا ہے یہ محبت سے وقت پر اپنا جال کھینچیں گے کوئی ...

مزید پڑھیے

ہو گیا جیسے ترا دیدار پہلا آخری

ہو گیا جیسے ترا دیدار پہلا آخری ہو بھی سکتا ہے کسی کا پیار پہلا آخری عمر بھر وہ شخص اپنی بات پر قائم رہا اور یوں ثابت ہوا انکار پہلا آخری جس قدر گھائل کیا خود سو گنا گھائل ہوا عشق ہی تو تھا مرا ہتھیار پہلا آخری اس لیے میں نے گزاری زیست ہو کر معتدل سمجھا جاتا ہے یہاں معیار پہلا ...

مزید پڑھیے

جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گا

جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گا وگرنہ تجھ کو کہیں خاک میں پڑا ملوں گا تو سالوں بعد بھی مجھ کو منانے آئے تو میں اپنی ایک ہی ضد پر تجھے اڑا ملوں گا تو خود کو یوں ہی گراتا رہا تو آخر کار میں تیرے قد سے تجھے سو گنا بڑا ملوں گا لکیر کھینچ کے رکھنا تسلی کی خاطر کہ اپنی حد سے نہ ...

مزید پڑھیے

آندھیاں غم کی چلیں اور کرب بادل چھا گئے

آندھیاں غم کی چلیں اور کرب بادل چھا گئے تجھ سے کیسے ہو ملن سب راستے دھندلا گئے کرچی کرچی خواہشیں آنکھوں میں چبھ کر رہ گئیں زرد موسم آس کی ہریالیوں کو کھا گئے میں کہ جس نے ہر صعوبت مسکرا کر جھیل لی منزلیں آئیں تو کیوں آنکھوں میں آنسو آ گئے تیرے نا آنے کے دکھ میں شدتیں پھولوں نے ...

مزید پڑھیے

یاد علی گڑھ

وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسے وہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصے کبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کے محبت ہوئی تھی کسی کو کسی سے ہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہ بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ بہت اپنا انداز تھا لاابالی کبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالی کبھی بات میں بات یوں ہی نکالی سر راہ کوئی ...

مزید پڑھیے

ہم کہیں بھی ہوں مگر یہ چھٹیاں رہ جائیں گی

ہم کہیں بھی ہوں مگر یہ چھٹیاں رہ جائیں گی پھول سب لے جائیں گے پر پتیاں رہ جائیں گی کام کرنا ہو جو کر لو آج کی تاریخ میں آنکھ نم ہو جائے گی پھر سسکیاں رہ جائیں گی اس نئے قانون کا منظر یہی دکھتا ہے اب پاؤں کٹ جائیں گے لیکن بیڑیاں رہ جائیں گی صرف لفظوں کو نہیں انداز بھی اچھا رکھو اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5897 سے 6203