قومی زبان

ٹافی نامہ

اکثر ہمارے خواب میں آتی ہیں ٹافیاں کھل جائے پھر جو آنکھ ستاتی ہیں ٹافیاں تقریب گھر میں ہو کوئی اسکول کا ہو جشن موقع ملے تو رنگ جماتی ہیں ٹافیاں کھائیں مزے مزے سے بڑے بھائی جان بھی باجی بھی خوب شوق سے کھاتی ہیں ٹافیاں ابا بھی لے کے آتے ہیں چیزیں نئی نئی امی بھی مارکیٹ سے تو لاتی ...

مزید پڑھیے

ہولی

ہولی جب بھی آئے پیار کی خوشیاں لائے رنگوں کے کھیلوں میں مستی سی چھا جائے خوش ہیں دادی نانی بچوں کی نادانی پچکاری میں بھر کر پھینک رہے ہیں پانی رنگ رنگیلی ہولی چھیل چھبیلی ہولی بچے ہوں یا بوڑھے سب کی سہیلی ہولی پانی کے غبارے رنگوں کے نظارے برا نہ مانو بھیا لگتے ہیں کیا پیارے

مزید پڑھیے

خدا جانتا ہے

خدا کی یہ باتیں خدا جانتا ہے نکلتا ہے مشرق سے کس طرح سورج فلک پر چمکتا ہے یہ چاند کیوں کر کہاں سے سمندر میں آتے ہیں طوفاں اجالا ہے کیسا یہ شمس و قمر پر خدا کی یہ باتیں خدا جانتا ہے بہاروں کا گل کو پتا کس طرح ہے ادا غنچوں کو یہ چٹکنے کی کیوں دی کہاں سے ہے آیا خزاں کا یہ موسم گھٹا ...

مزید پڑھیے

چاند تارے بنا کے کاغذ پر

چاند تارے بنا کے کاغذ پر خوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پر بستیاں کیوں تلاش کرتے ہیں لوگ جنگل اگا کے کاغذ پر جانے کیا ہم سے کہہ گیا موسم خشک پتا گرا کے کاغذ پر ہنستے ہنستے مٹا دیے اس نے شہر کتنے بسا کے کاغذ پر ہم نے چاہا کہ ہم بھی اڑ جائیں ایک چڑیا اڑا کے کاغذ پر لوگ ساحل تلاش کرتے ...

مزید پڑھیے

سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے

سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے نظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہے ابھی سے اوس کو کرنوں سے پی رہے ہو تم تمہیں تو خواب سا آنکھوں کے گھر میں رہنا ہے ہوا تو آپ کی قسمت میں ہونا لکھا تھا مگر میں آگ ہوں مجھ کو شجر میں رہنا ہے نکل کے خود سے جو خود ہی میں ڈوب جاتا ہے میں وہ سفینہ ...

مزید پڑھیے

دن کے سینے پہ شام کا پتھر

دن کے سینے پہ شام کا پتھر ایک پتھر پہ دوسرا پتھر یہ سنا تھا کہ دیوتا ہے وہ میرے حق ہی میں کیوں ہوا پتھر دائرے بنتے اور مٹتے تھے جھیل میں جب کبھی گرا پتھر اب تو آباد ہے وہاں بستی اب کہاں تیرے نام کا پتھر ہو گئے منزلوں کے سب راہی دے رہا ہے کسے صدا پتھر سارے تارے زمیں پہ گر ...

مزید پڑھیے

راستے سکھاتے ہیں کس سے کیا الگ رکھنا

راستے سکھاتے ہیں کس سے کیا الگ رکھنا منزلیں الگ رکھنا قافلہ الگ رکھنا بعد ایک مدت کے لوٹ کر وہ آیا ہے آج تو کہانی سے حادثہ الگ رکھنا جس سے ہم نے سیکھا تھا ساتھ ساتھ چلنا ہے اب وہی بتاتا ہے نقش پا الگ رکھنا کوزہ گر نے جانے کیوں آدمی بنایا ہے اس کو سب کھلونوں سے تم ذرا الگ ...

مزید پڑھیے

ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھر

ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھر راس آتا ہے کسے ہجر مناتا ہوا گھر خواب کے خدشے سے اب نیند اڑی جاتی ہے میں نے دیکھا ہے اسے چھوڑ کے جاتا ہوا گھر گر زباں ہوتی تو پتھر ہی بتاتا سب کو کس قدر ٹوٹا ہے وہ خود کو بناتا ہوا گھر اس کا اب ذکر نہ کر چھوڑ کے جانے والے تو نے دیکھا ہی کہاں ...

مزید پڑھیے

جو اشک بن کے ہماری پلک پہ بیٹھا تھا

جو اشک بن کے ہماری پلک پہ بیٹھا تھا تمہیں بھی یاد ہے اب تک وہ خواب کس کا تھا ہمیشہ پوچھتی رہتی ہے راستوں کی ہوا یونہی رکے ہو یہاں یا کسی نے روکا تھا لگا ہوا ہے ابھی تک یہ جان کو کھٹکا کہ اس نے جاتے ہوئے کیوں پلٹ کے دیکھا تھا خبر کسے ہے کسے پوچھیے بتائے کون پرانے قصر میں کیا صبح و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5896 سے 6203