قومی زبان

جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کا

جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کا اس کے احساس سے ثابت تھا نہ ہونا اس کا دل شکستہ ہو وہ کیوں سر پھری باتوں سے مری میں نے بچپن میں بھی توڑا تھا کھلونا اس کا اک ستم پیشہ طبیعت کا پتہ دیتا ہے کاغذی ناؤ کو بارش میں ڈبونا اس کا پھر کوئی یاد چھڑا لیتی ہے انگلی مجھ سے یاد آتا ہے کسی ...

مزید پڑھیے

تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھے

تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھے وہ دھاگے ٹوٹ گئے جو بہت پرانے تھے ترے ملن سے ترا انتظار بہتر تھا بنے نہ جسم جو سائے وہی سہانے تھے سنائیں لفظوں کی سب سطح سنگ پر ٹوٹیں تمہیں یہ وار تو پھولوں پہ آزمانے تھے ہمارے بعد بھی رونق نہ آئی اس گھر پر چراغ ایک ہوا کو کئی بجھانے تھے بچا نہ ...

مزید پڑھیے

سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئے

سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئے ہمارے ساتھ میں موسم بھی سب سہانے گئے تجھے خبر نہیں تعمیر نو کے پاگل پن چھتیں گریں تو پرندوں کے آشیانے گئے جہاں سرابوں کا اک موج موج سورج تھا وہیں بھڑکتی ہوئی پیاس سب بجھانے گئے بکھرنے دو کسی آوارہ یاد کی خوشبو کہ بھول جانے کے بھی اب اسے زمانے ...

مزید پڑھیے

مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں

مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں ورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤں مرے بغیر بھی کچھ دن گزار لے اے دوست نہ اتنا پی کہ میں تیری شراب بن جاؤں بڑھا نہ فاصلے ہر روز اجنبی کی طرح نہ یوں بلا کہ میں تجھ پر عذاب بن جاؤں کیا تھا تو نے تو روشن چراغ کہہ کے مجھے یہ میرا حوصلہ میں آفتاب بن ...

مزید پڑھیے

مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی

مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزل ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرم شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی جب ...

مزید پڑھیے

صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھ

صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھ ایک سورج کو گریبان میں رکھ دن میں کچھ اور ہوں شب میں کچھ اور لمحہ لمحہ مجھے پہچان میں رکھ جل بجھا طاق سحر میں کب کا اب مجھے شب کے بیابان میں رکھ ہوئیں یخ بستہ سبھی پچھلی رتیں یاد کی دھوپ کو دالان میں رکھ بچ کے اس شور سماعت سے ذرا اپنے کچھ راز مرے ...

مزید پڑھیے

وہ تو ہے دشمن جاں داد وفا کیا دے گا

وہ تو ہے دشمن جاں داد وفا کیا دے گا جو کبھی زہر نہ دے پایا دوا کیا دے گا کل کہیں آج کہیں اپنا سفر نا معلوم کوئی بے سمت ہواؤں کا پتا کیا دے گا اس سے سر پھوڑ کے مر جاؤ تو کچھ بات بنے زندگی یہ تمہیں پتھر کا خدا کیا دے گا خود تمہیں جسم کی دیوار میں کھڑکی کھولو ایک زندان ہے سانسوں کا ...

مزید پڑھیے

کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھی

کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھی میرے ہاتھوں میں تری زلف بھی زنجیر نہ تھی دیکھ کر تم کو سرابوں کا تماشا سا رہا خواب تھا یہ بھی کسی خواب کی تعبیر نہ تھی سو چکا تھا کسی معصوم فرشتے کی طرح اس کی آنکھوں میں تو قاتل کی بھی تصویر نہ تھی ریگزاروں سے لگاؤ رہا یوں ہی ورنہ ریت پر ...

مزید پڑھیے

پس ساحل تماشا کیا ہے بڑھ کر دیکھ لینا تھا

پس ساحل تماشا کیا ہے بڑھ کر دیکھ لینا تھا کہ پہلے پھینک کر دریا میں پتھر دیکھ لینا تھا مکمل جسم اک پرچھائیں میں ڈھل جاتا ہے کیسے تمہیں کھڑکی سے اپنی یہ بھی منظر دیکھ لینا تھا زمینوں پر اترتا آسماں دیکھا کبھی تم نے بلاتے وقت اس کو خاک کا گھر دیکھ لینا تھا کھلیں آنکھیں جو بعد از ...

مزید پڑھیے

اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہے

اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہے ہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہے کوئی آیا نہ گیا برسوں سے ان راہوں میں معرکہ کیسا سر راہ گزر باقی ہے جلنے پاتا نہیں کوئی دیا کوئی جگنو طاق دل میں گئی آندھی کا اثر باقی ہے اب بھی کہلاتا ہے وہ شخص تو محبوب نظر دل دکھانے کا ابھی اس میں ہنر باقی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5890 سے 6203