شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا
شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا جسم مجنوں میں ہوا تنگ شلوکا اپنا یار بنتا نہیں وہ نور کا پتلا اپنا خاک میں مل گیا تسخیر کا دعویٰ اپنا میکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگا در مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا وصل کی رات بہت طول ہوا آخر کار مختصر یہ ہے کہ فیصل ہوا قصہ اپنا گل کھلا کر ...