قومی زبان

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں کر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میں ہے دور جہاں میں مجھے سب شکوہ تجھی سے کیوں کچھ گلہ گردش ایام کروں میں آوے جو تصرف میں مرے مے کدہ ساقی اک دم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں حیراں ہوں ترے ہجر میں کس طرح سے پیارے شب روز کو اور صبح کے تئیں شام ...

مزید پڑھیے

میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگے

میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگے یہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگے بن دیکھے اس پیارے کے آنکھوں نے اپنا حال ایسا کیا ہے جیسے کہ باراں کا جھڑ لگے مت اس ادا و ناز سے گلشن میں کر گزر ڈرتا ہوں میں مبادا کسی کی نظر لگے ہو چار چشم کون سکے ایسے یار سے آنکھوں کے دیکھتے ہی پیا کی خطر لگے ہر ...

مزید پڑھیے

دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں

دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں جوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیں چاہے ہیں جس نہ تس کو باندھیں گرہ میں اپنی دل لینے کو بلا ہیں یہ پیچ والی زلفیں مثل سلاسل اس میں عقدے ہزارہا ہیں ٹک پیچ و تاب سے میں دیکھیں نہ خالی زلفیں مار سیہ جدا کب رہتا ہے گنج زر سے ہوتی نہیں ہیں ...

مزید پڑھیے

پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذت

پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذت جو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذت کیفیتیں اس دیدۂ میگوں سے جو پائیں پائی نہ کبھی بادے سے اور جام سے لذت ظاہر ہے تری نرگس مخمور سے مستی ٹپکے ہے ترے لعل مے آشام سے لذت پاتا ہوں مزا بیکلی اور درد کا ایسا پاوے ہے کوئی جیسے کہ آرام سے لذت ؔرکھتا ...

مزید پڑھیے

تیری خوشبو کا تراشا ہے یہ پیکر کس نے

تیری خوشبو کا تراشا ہے یہ پیکر کس نے کر دیا ہے مرا ماحول معطر کس نے آسماں ہمت پرواز سے کچھ دور نہیں اس تمنا کے مگر کاٹ لئے پر کس نے ناسمجھ قطرۂ ناچیز کی وقعت کو سمجھ تو سمندر ہے بنایا ہے سمندر کس نے کس کی پازیب کا سنگیت ہے ہستی میری پاؤں سے باندھ لیا میرا مقدر کس نے پرتو حسن ہے ...

مزید پڑھیے

زہے نصیب وہ پرساں ہیں غم کے ماروں کے

زہے نصیب وہ پرساں ہیں غم کے ماروں کے مزاج عرش پہ ہیں آج دل فگاروں کے جہاں میں دیدۂ جوہر شناس کی ہے کمی زیادہ دام ہیں ہیروں سے سنگ پاروں کے طلوع مہر بدلنے کو ہے نظام فلک کہو کہ کوچ کریں کارواں ستاروں کے حسین چاند کی کرنوں سے کھیلنے والی مرے جہاں میں کئی کھیت ہیں ستاروں کے

مزید پڑھیے

ہر سوال کا اپنے خود جواب ہو جائے

ہر سوال کا اپنے خود جواب ہو جائے ذرے کی تمنا ہے آفتاب ہو جائے تو کبھی جو بھولے سے بے نقاب ہو جائے منتقل حقیقت میں اپنا خواب ہو جائے عشق کے پرستارو کچھ کمی تو ہے ورنہ بوالہوس محبت میں کامیاب ہو جائے ہم نفس خدا حافظ غنچہ و عنادل کا باغباں کی نیت ہی جب خراب ہو جائے میکدے میں توبہ ...

مزید پڑھیے

جلوے نہیں ہوتے وہ نظارے نہیں ہوتے

جلوے نہیں ہوتے وہ نظارے نہیں ہوتے جب چاند کے پہلو میں ستارے نہیں ہوتے ہم اس لیے کرتے ہیں ترے غم کی پرستش کانٹوں کے خریدار تو سارے نہیں ہوتے ساحل کے طلب گار یہ پہلے سے سمجھ لیں دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے اٹھتے ہوئے جذبات کے طوفاں نہیں رکتے پابند روش وقت کے دھارے نہیں ہوتے

مزید پڑھیے

ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں

ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں ابھی ہے آغاز مستیوں کا شراب کے دور چل رہے ہیں عجیب برسات کا سماں ہے نظر کو ہر وقت یہ گماں ہے کہ حسن انگڑائی لے رہا ہے حسین کپڑے بدل رہے ہیں ابھی جوانی پہ ہیں امنگیں دلوں میں ہیں سینکڑوں ترنگیں جو دو چراغ آج بجھ رہے ہیں تو دس چراغ ...

مزید پڑھیے

وقت آنے دو چاک سی لیں گے

وقت آنے دو چاک سی لیں گے ابر اٹھنے دو ہم بھی پی لیں گے انقطاع تعلقات سہی اپنی ہمت ہوئی تو جی لیں گے تم پرستش کرو ستاروں کی ہم ستاروں سے روشنی لیں گے مسئلہ زندگی کا سیدھا ہے ہم مرے بھی تو زندگی لیں گے سانس لینے کو یوں تو لیتے ہیں چین کا سانس بھی کبھی لیں گے آتش و آب لیں گے شبنم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5664 سے 6203