قومی زبان

آپ نے آج یہ محفل جو سجائی ہوئی ہے

آپ نے آج یہ محفل جو سجائی ہوئی ہے بات اس کی ہی فقط بزم میں چھائی ہوئی ہے اس قدر ناز نہ کیجے کہ بزرگوں نے بہت بارہا بزم خود آرائی سجائی ہوئی ہے اس قدر شور ہے کیوں سرخیٔ اخبار پہ آج جبکہ معلوم ہے ہر بات بنائی ہوئی ہے آج تو چین سے رونے دو مجھے گوشے میں ایک مدت پہ غم دل سے جدائی ہوئی ...

مزید پڑھیے

انداز‌ نمو کیسا المناک نکالا

انداز‌ نمو کیسا المناک نکالا پیوند‌ بدن میرا سر خاک نکالا اس نے دل بے کیف کو بیمار سمجھ کر درماں کے لئے نشتر سفاک نکالا امکان کی گودی کے پلے ذہن رسا نے اک سبزہ میان خس و خاشاک نکالا صحرا کی تپش پیاس کی شدت تھی کہ اس نے بھولا ہوا اک قصۂ نمناک نکالا افسوس سلاطین چکا پائے نہ ...

مزید پڑھیے

وہ جو حسن کل کی دلیل تھا وہ خیال آ کے سجا گیا

وہ جو حسن کل کی دلیل تھا وہ خیال آ کے سجا گیا لڑیں یوں نگاہ سے بجلیاں کوئی جیسے پردے اٹھا گیا میں حکایت دل بے نوا میں اشارت غم جاوداں میں وہ حرف آخر معتبر جو لکھا گیا نہ پڑھا گیا میں چراغ حسرت نیم شب میں شرار آتش جاں بہ لب دل پر امید کی لو تھا میں مجھے خود وہ آ کے بجھا گیا میں ...

مزید پڑھیے

ایک اجنبی لڑکی

شام شام جیسی تھی راستوں پہ ہلچل تھی کام کرنے والے سب اپنا فرض ادا کر کے اپنے اپنے میداں سے کچھ تھکے تو کچھ ہارے اپنے گھر کو جاتے تھے بھیڑ تھی دکانوں پر گھر کو لوٹنے والے اگلی صبح کی خاطر رک کے مال لیتے تھے ہر کسی کو جلدی تھی اور شام ڈھلتی تھی ایک ہم تھے آوارہ کل نہ تھا کوئی سودا اس ...

مزید پڑھیے

زندان نامہ

آج تاریکئ شب حد سوا لگتی ہے جانے کیا بات ہوئی ہے کہ گھٹن ہوتی ہے گو کہ اک عمر گزاری ہے اسی زنداں میں نیم تاریک سے اس گوشۂ ویراں سے مری ایسا لگتا ہے کہ دیرینہ شناسائی ہے اس کی دیواروں پہ لکھے ہیں کئی افسانے جن میں دلگیر تمناؤں کی گہرائی ہے اس کی بے جان زمیں نے مری آنکھوں میں بہت خشک ...

مزید پڑھیے

جوان بیٹی سے باپ کا خطاب

مری بیٹی مری جاناں تمہیں سب یاد تو ہوگا بہت پہلے بہت پہلے جوانی کا تھا جب عالم مرے بازو میں طاقت تھی مرے سینے میں ہمت تھی انہیں ایام میں اک دن مری آغوش الفت میں کسی نے لا کے رکھا تھا تمہارا پھول سا چہرہ بدن بے انتہا نازک مرے ان سخت ہاتھوں میں عجب نرمی سی آئی تھی مری اس آنکھ نے بو سے ...

مزید پڑھیے

جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیں

جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیں تیر سی دل کے پار ہوتی ہیں رنجشیں میری اور اس گل کی رات دن میں ہزار ہوتی ہیں عشق میں بے حجابیاں دل کو کیا ہی بے اختیار ہوتی ہیں تو جو جاتا ہے باغ میں اے گل بلبلیں سب نثار ہوتی ہیں قمریاں بندگی میں تجھ قد کی سر بسر طوق دار ہوتی ہیں آفتابؔ اس کے وصل کی ...

مزید پڑھیے

گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالی

گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالی تس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالی کچھ ہوش نہیں مجھ میں رہا جب سے پلائی اس نرگس مخمور کی ساقی نے پیالی شبنم کے عرق میں ہوا خجلت سیتی گل تر دیکھی جو لب لعل کی اس شوخ کے لالی وے غیر ہی ہیں جن کی ہر اک بات ہو سنتے ہم نے تو جو کچھ عرض کی سو سنتے ہی ...

مزید پڑھیے

گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا

گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا جی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیا میں جان سے گیا تری خاطر ولیک حیف تو مجھ سے ظاہری بھی مدارات سے گیا یا سال و ماہ تھا تو مرے ساتھ یا تو اب برسوں میں ایک دن کی ملاقات سے گیا دیکھا جو بات کرتے تجھے رات غیر سے دل میرا ہاتھ سیتی اسی بات سے گیا اس رشک مہ ...

مزید پڑھیے

کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو

کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو کل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کرو کہیں جلا دے نہ اسے شعلۂ آہ عاشق پلکوں کی ٹٹی کے تئیں آنکھوں کی اوجھل نہ کرو کر چکی تیغ نگاہ کام تو پل ہی میں تمام تیر پلکوں کا مقابل مرے پل پل نہ کرو اس کو ہر شب ہے زوال اس کو نہیں ہے کچھ نقص بدر کو چہرے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5663 سے 6203