آپ نے آج یہ محفل جو سجائی ہوئی ہے
آپ نے آج یہ محفل جو سجائی ہوئی ہے بات اس کی ہی فقط بزم میں چھائی ہوئی ہے اس قدر ناز نہ کیجے کہ بزرگوں نے بہت بارہا بزم خود آرائی سجائی ہوئی ہے اس قدر شور ہے کیوں سرخیٔ اخبار پہ آج جبکہ معلوم ہے ہر بات بنائی ہوئی ہے آج تو چین سے رونے دو مجھے گوشے میں ایک مدت پہ غم دل سے جدائی ہوئی ...