مداوا
بھرے بازار میں اک شخص اب تک اسے مڑ مڑ کے دیکھے جا رہا ہے نہیں اتنی بھی سدھ باقی کہ سوچے یہ کب کا واقعہ یاد آ رہا ہے عیاں صورت سے ہے اس کی کہ جیسے زمیں پیروں کے نیچے ہل گئی ہو کوئی شے جو کبھی گم ہو گئی تھی اچانک راستے میں مل گئی ہو!
بھرے بازار میں اک شخص اب تک اسے مڑ مڑ کے دیکھے جا رہا ہے نہیں اتنی بھی سدھ باقی کہ سوچے یہ کب کا واقعہ یاد آ رہا ہے عیاں صورت سے ہے اس کی کہ جیسے زمیں پیروں کے نیچے ہل گئی ہو کوئی شے جو کبھی گم ہو گئی تھی اچانک راستے میں مل گئی ہو!
شہر کے ہسپتال میں اس کو ایک ہفتہ ہوا ہے آئے ہوئے ''سات نمبر'' کا کانا ٹھیکیدار کانپتا تھا جو دیکھ کر نشتر اس کے زخموں پہ آج کل وہ خود اپنے ہاتھوں سے پھائے رکھتی ہے لنگڑا بدھ سین ''گیارہ نمبر'' کا اس کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں گھونٹ کڑوی دوا کے پیتا ہے ''پانچ نمبر'' کا دق زدہ شاعر دیکھ ...
اپنے سائے سے بھی گھبرائیں گے ایک پل چین نہیں پائیں گے سوچتے سوچتے تھک جائیں گے ہانپتے کانپتے چل کر آخر تیرے دروازے پہ دستک دیں گے تو ہمیں دیکھ کے مغموم و ملول اپنی بانہوں کا سہارا دے گی اور ہم چین سے سو جائیں گے کل یہ سایہ ہمیں پھر گھیرے گا کل یہی فکر ہمیں کھائے گی اور ہم پھر اسی ...
آدمیوں کے اس میلے میں وقت کی انگلی پکڑے پکڑے جانے کب سے گھوم رہا ہوں کبھی کبھی جی میں آتا ہے اس میلے کو چھوڑ کے میں بھی ان ٹیڑھی راہوں پر جاؤں دور سے جو سیدھی لگتی ہیں لیکن جانے کیوں اک سایہ رستہ روک کے کہہ دیتا ہے وقت کے ساتھ نہ چلنے والے مرتے دم تک پچھتاتے ہیں آدمیوں کے میلے میں ...
کھڑکی کے شیشے سے چھن کر کمرے میں آ جاتی ہے میز کی تصویروں کو اپنے ہاتھوں سے چمکاتی ہے ساری کتابوں کے چہروں کو اجلا کرتی جاتی ہے پھر میرے بستر سے مجھ کو اٹھنے پر اکساتی ہے میں روز اپنے خواب ادھورے چھوڑ کے باہر جاتا ہوں!
بہت دنوں سے مجھے انتظار ہے لیکن تمہارے شہر سے کوئی یہاں نہیں آیا میں سوچتا ہوں تو بس یہ کہ اب تمہاری شکل گزرتے وقت کے ہاتھوں بدل گئی ہوگی خمیدہ زلفوں کی کالی گھٹا میں اب شاید سفید بالوں کی تعداد بڑھ گئی ہو گی تمہارے گال پہ جو ایک تل چمکتا تھا پتہ نہیں وہ چمک اس میں اب بھی باقی ...
چاہتوں کا مری اثر بھی ہو آگ جو ہے ادھر ادھر بھی ہو روشنی کا پتا کرو یارو رات ہے تو کہیں سحر بھی ہو یہ نظارے جو دیکھے بھالے ہیں کچھ ہماری نئی نظر بھی ہو قید ہے جو کہیں دیواروں میں اس خوشی کی ہمیں خبر بھی ہو جشن ہے جو ادھر بہاروں کا وہ خوشی کا سماں ادھر بھی ہو زندگی کے سفر میں اے ...
نرم ریشم سی ملائم کسی مخمل کی طرح سرد راتوں میں تری یاد ہے کمبل کی طرح میں زمانے سے الجھ سکتا ہوں اس کی خاطر جو سجاتا ہے مجھے آنکھ میں کاجل کی طرح کوئی ساگر کہیں پیاسا جو نظر آئے تو ہم برستے ہیں وہیں ٹوٹ کے بادل کی طرح خوبصورت تھی یہ کشمیر کی وادی جیسی زندگی تیرے بنا لگتی ہے ...
لوگ ملتے بچھڑتے رہتے ہیں رشتے بنتے بگڑتے رہتے ہیں یہ نئے راستے ہیں چاہت کے آئے دن جو اکھڑتے رہتے ہیں غم نہ کر دل کے ٹوٹ جانے کا یہ چمن تو اجڑتے رہتے ہیں ہے زمانہ نئی روایت کا لوگ باہم جھگڑتے رہتے ہیں دل رفو کب تلک کرو گے تم کچے دھاگے ادھڑتے رہتے ہیں بہتے رہتے ہیں اشک آنکھوں ...
تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرح بیچا گیا آج بھی ہر بار کی طرح قاتل ہیں میری جان کا دشمن ہے وہ مگر ملتا ہے مجھ سے جو کسی غم خوار کی طرح ایک شے کہ جس کا نام ہے احساس ذہن میں پیہم کھٹکتا رہتا ہے اک خار کی طرح میں اپنی بے گناہی پہ خود اپنے آپ میں رہتا ہوں شرم سار گنہ گار کی طرح کرتے ...