قومی زبان

رات کے بعد سحر دیکھیں گے

رات کے بعد سحر دیکھیں گے ہم دعاؤں کا اثر دیکھیں گے کیسے ہر حال میں خوش رہتا ہے ہم بھی اس کا یہ ہنر دیکھیں گے چھاؤں دیتا ہے سبھی کو اب تک آؤ وہ بوڑھا شجر دیکھیں گے حال پر سب نے جو چھوڑا ہے مجھے کیسے ہوتی ہے گزر دیکھیں گے کرکے آغازؔ سفر کا تنہا کیسے کٹتا ہے سفر دیکھیں گے

مزید پڑھیے

جو تھا ریا سے پاک زمانہ کہاں گیا

جو تھا ریا سے پاک زمانہ کہاں گیا وہ دور زندگی کا سہانا کہاں گیا ہر چین پا کے کس لیے بے چین ہے بشر پاتا تھا وہ سکوں جو ٹھکانا کہاں گیا ماحول کیوں ہے آج گلستاں کا ماتمی وہ بلبلوں کا شور مچانا کہاں گیا آتے تھے جھیل پر جو پرندے کہاں گئے ان کا جو تھا وہ ٹھور ٹھکانہ کہاں گیا

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے

بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے ہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہے وہ آ گئے لو وہ جی اٹھا میں عدو کی امید یاس ٹھہری عجب تماشا ہے دل لگی ہے قضا کھڑی ہاتھ مل رہی ہے بتاؤ دل دوں نہ دوں کہو تو عجیب نازک معاملہ ہے ادھر تو دیکھو نظر ملاؤ یہ کس کی شوخی مچل رہی ...

مزید پڑھیے

عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں

عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں دھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میں اقرار پہ بھی میری طبیعت نہیں جمتی وہ لطف ملا ہے تری پیماں شکنی میں دل ٹوٹ کے جڑتا نہیں شیشہ ہو تو جڑ جائے ہے فرق یہی سوختنی ساختنی میں حسرت ہے مری آپ کی تصویر نہیں ہے اک چیز ہے رکھ لی ہے چھپا کر کفنی میں ہم بھی ...

مزید پڑھیے

لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا

لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا جس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیا دیکھنا مغرب کی جانب یہ شفق کا پھولنا ڈوبتے سورج نے سونے میں سہاگا کر دیا زندگی اور موت میں اک عمر سے تھی کشمکش وقت پر دو ہچکیوں نے پاک جھگڑا کر دیا اک شرارہ سا قریب شمع جا کر مل گیا آتش پروانہ نے شعلے ...

مزید پڑھیے

میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے

میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے تو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیے ایک ادنیٰ سے پتنگے نے بنا دی جان پر شمع نے کوشش تو کی تھی دل جلانے کے لیے برق خرمن سوزاب رکھنا ذرا چشم کرم چار تنکے پھر جڑے ہیں آشیانے کے لیے منہ نہیں ہر ایک کا جو سختی گردوں سہے کچھ کلیجہ چاہیے وہ زخم ...

مزید پڑھیے

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا کیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھا آہ اتنی کاوشیں یہ شور و شر یہ اضطراب ایک چٹکی خاک کی دو پر یہ پروانے میں تھا آپ ہی اس نے انا الحق کہہ دیا الزام کیا ہوش کس نے لے لیا تھا ہوش دیوانے میں تھا اللہ اللہ خاک میں ملتے ہی یہ پائے ثمر لو ...

مزید پڑھیے

دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی

دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی اب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئی تم جان دے کے لیتے ہو یہ بھی نئی ہوئی لیتے نہیں سخی تو کوئی چیز دی ہوئی اس ٹوٹے پھوٹے دل کو نہ چھیڑو پرے ہٹو کیا کر رہے ہو آگ ہے اس میں دبی ہوئی لو ہم بتائیں غنچہ و گل میں ہے فرق کیا اک بات ہے کہی ہوئی اک بے کہی ...

مزید پڑھیے

ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا

ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا اندھا ہے تجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا دل کی بری عادت ہے جو مٹتا ہے بتوں پر واللہ میں ان کو تو برائی نہیں دیتا کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا گرتا ہے اسی وقت بشر منہ کے بل آ کر جب تیرے سوا کوئی دکھائی نہیں ...

مزید پڑھیے

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے کیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہے دنیا کی زمینوں سے اے چرخ تو کیا واقف اک اک یہاں پنہاں کاؤس ہے ایرج ہے دروازے پہ اس بت کے سو بار ہمیں جانا اپنا تو یہی کعبہ اپنا تو یہی حج ہے اے ابروئے جاناں تو اتنا تو بتا ہم کو کس رخ سے کریں سجدہ قبلے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5644 سے 6203