دکھائی دے کہ شعاعبصیر کھینچتا ہوں
دکھائی دے کہ شعاعبصیر کھینچتا ہوں غبار کھینچ جگر کا لکیر کھینچتا ہوں دکھائی دیتا ہوں تنہا سفینے میں لیکن کنارے لگتے ہی جم غفیر کھینچتا ہوں مرے جلو سے کوئی کہکشاں نہیں بچتی میں کھینچنے پہ جو آؤں اخیر کھینچتا ہوں امڈ پڑی ہے جو یکسر خزاں کے دھارے سے گلابی نگہ ناگزیر کھینچتا ...