سبو اٹھاؤں تو پینے کے بیچ کھلتی ہے
سبو اٹھاؤں تو پینے کے بیچ کھلتی ہے کوئی گلی میرے سینے کے بیچ کھلتی ہے تمام رات ستارے تلاش کرتے ہیں وہ چاندنی کسی زینے کے بیچ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے تو تشکیل پانے لگتا ہوں مری بساط نگینے کے بیچ کھلتی ہے گرفت ہوش نہیں سہل دست برداری گرہ یہ سخت قرینے کے بیچ کھلتی ہے کنارۂ مہ و ...