یہ حقیقت ہے وہ کمزور ہوا کرتی ہیں
یہ حقیقت ہے وہ کمزور ہوا کرتی ہیں اپنی تقدیر کا قومیں جو گلہ کرتی ہیں ریت پر جب بھی بناتا ہے گھروندا کوئی سر پھری موجیں اسے دیکھ لیا کرتی ہیں میں گلستاں کی حفاظت کی دعا کرتا ہوں بجلیاں میرے نشیمن پہ گرا کرتی ہیں جانے کیا وصف نظر آتا ہے مجھ میں ان کو تتلیاں میرے تعاقب میں رہا ...