یہ کون آیا ہے گلشن میں تازگی لے کر
یہ کون آیا ہے گلشن میں تازگی لے کر چمن میں پھول بہاروں سے بات کرتے ہیں وہ کرنے لگتے ہیں تعریف تیری محفل کی جب آسماں کے نظاروں سے بات کرتے ہیں
یہ کون آیا ہے گلشن میں تازگی لے کر چمن میں پھول بہاروں سے بات کرتے ہیں وہ کرنے لگتے ہیں تعریف تیری محفل کی جب آسماں کے نظاروں سے بات کرتے ہیں
اس کی خوشبو سے معطر ہے مری تنہائی یاد اس کی مجھے تنہا نہیں ہونے دیتی ابن آدم ہوں خطا ہوتی ہے مجھ سے تسکین اس کی رحمت مجھے رسوا نہیں ہونے دیتی
آسمانوں پہ نظر آتی ہے اس کی سرخی جب کسی ٹوٹے ہوئے دل پہ چھری چلتی ہے پھٹ نہ جائے کہیں قاتل کا کلیجہ افضلؔ رقص کرتے ہوئے بسمل پہ چھری چلتی ہے
میں ہوں بیگانۂ جہاں افضلؔ کیوں کرے کوئی انتظار مرا بد نما خود کو میں سمجھتا تھا آئنہ ہی تھا داغدار مرا
ہجر کے ماروں کی تقدیر بھی کیا ہوتی ہے دیکھ سکتے ہیں مگر بات نہیں ہو پاتی ان کناروں سے کبھی پوچھو جدائی کیا ہے عمر بھر جن کی ملاقات نہیں ہو پاتی
ہوتا تھا جنہیں دیکھ کے مسرور میں افضلؔ آنکھوں میں مری اب وہی منظر نہیں آتے حیران میں ہوتا ہوں یہی سوچ کے اکثر کیا بات ہے اب چھت پہ کبوتر نہیں آتے
اب بھی راتیں مری مہکتی ہیں ایک دن خواب میں وہ آتا تھا چلتے چلتے ہوئی کوئی آہٹ مڑ کے دیکھا تو میرا سایا تھا
کیا کبھی اس سے ملاقات ہوئی ہے تیری نور سے جس کے اجالا ہے تری آنکھوں میں آئنہ دیکھ کے حیران تجھے ہوتا ہے عکس کس کا ہے جو رہتا ہے تری آنکھوں میں
آنچل میں نظر آتی ہیں کچھ اور سی آنکھیں چھا جاتی ہیں احساس پہ بلور سی آنکھیں رہتی ہے شب و روز میں بارش سی تری یاد خوابوں میں اتر جاتی ہیں گھنگھور سی آنکھیں پیمانے سے پیمانے تلک بادۂ لعلیں آغاز سے انجام تلک دور سی آنکھیں لے کر کہاں رہتی رہی موتی سی وہ صورت لے کر کہاں پھرتا رہا ...
ہے اسی شہر کی گلیوں میں قیام اپنا بھی ایک تختی پہ لکھا رہتا ہے نام اپنا بھی بھیگتی رہتی ہے دہلیز کسی بارش میں دیکھتے دیکھتے بھر جاتا ہے جام اپنا بھی ایک تو شام کی بے مہر ہوا چلتی ہے ایک رہتا ہے ترے کو میں خرام اپنا بھی کوئی آہٹ ترے کوچے میں مہک اٹھتی ہے جاگ اٹھتا ہے تماشا کسی ...