قومی زبان

آنچل میں نظر آتی ہیں کچھ اور سی آنکھیں

آنچل میں نظر آتی ہیں کچھ اور سی آنکھیں چھا جاتی ہیں احساس پہ بلور سی آنکھیں رہتی ہے شب و روز میں بارش سی تری یاد خوابوں میں اتر جاتی ہیں گھنگھور سی آنکھیں پیمانے سے پیمانے تلک بادۂ لعلیں آغاز سے انجام تلک دور سی آنکھیں لے کر کہاں رہتی رہی موتی سی وہ صورت لے کر کہاں پھرتا رہا ...

مزید پڑھیے

ہے اسی شہر کی گلیوں میں قیام اپنا بھی

ہے اسی شہر کی گلیوں میں قیام اپنا بھی ایک تختی پہ لکھا رہتا ہے نام اپنا بھی بھیگتی رہتی ہے دہلیز کسی بارش میں دیکھتے دیکھتے بھر جاتا ہے جام اپنا بھی ایک تو شام کی بے مہر ہوا چلتی ہے ایک رہتا ہے ترے کو میں خرام اپنا بھی کوئی آہٹ ترے کوچے میں مہک اٹھتی ہے جاگ اٹھتا ہے تماشا کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5616 سے 6203