قومی زبان

کوئی نہ ڈوبے میں یوں سہارے بنا رہا ہوں

کوئی نہ ڈوبے میں یوں سہارے بنا رہا ہوں جہاں بھنور ہے وہیں کنارے بنا رہا ہوں یہ غزلیں سن کے تو اپنے اوپر غرور مت کر میں واہ واہ ہی کو استعارے بنا رہا ہوں یہ میں ہی کہتا تھا پھول مت توڑ پر یہ گجرے میں اس کے غصے کے ڈر کے مارے بنا رہا ہوں سوا ہمارے کوئی نہ سمجھے ہماری باتیں یوں گفتگو ...

مزید پڑھیے

دشمنوں کی کبھی فہرست بڑھاتا نہیں میں

دشمنوں کی کبھی فہرست بڑھاتا نہیں میں عشق کس سے ہے کسی کو بھی بتاتا نہیں میں اس نے اس طرح پکارا کہ پلٹنا ہی پڑا ورنہ اک بار چلا جاؤں تو آتا نہیں میں تیری قسمت کہ تو اس دل میں رہا کرتا ہے یہ وہ مسند ہے جہاں سب کو بٹھاتا نہیں میں میرے صیاد مجھے اب تو رہا مت کرنا تیرے دانے کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

یہاں پہ ڈھونڈے سے بھی فرشتے نہیں ملیں گے

یہاں پہ ڈھونڈے سے بھی فرشتے نہیں ملیں گے زمیں ہے صاحب یہاں تو اہل زمیں ملیں گے پریشاں مت ہو کہ یار ٹیڑھی لکیریں ہیں ہم کہاں کا تو کچھ پتا نہیں پر کہیں ملیں گے کچھ ایسے غم ہیں جو دل میں ہرگز نہیں ٹھہرتے مکان ہوتے ہوئے سڑک پر مکیں ملیں گے زمیں پہ ملنے نہ دیں گے ہم کو زمانے ...

مزید پڑھیے

خزاں میں سوکھ بھی سکتی ہے پھلواری ہماری

خزاں میں سوکھ بھی سکتی ہے پھلواری ہماری سخن کاری میں دیکھے کوئی گلکاری ہماری اک ایسی صنف پہ مبنی ہے فن کاری ہماری چھپانے سے نہیں چھپتی ہے دل داری ہماری نہیں ملتے جو ہم ان سے بھی ملنا چاہتے ہیں بہت رسوا کراتی ہے ملن ساری ہماری تمہارے آنے کے امکاں نظر آتے ہیں ہم کو زیادہ کھل رہی ...

مزید پڑھیے

کہہ ڈالے غزلوں نظموں میں افسانے کیا کیا

کہہ ڈالے غزلوں نظموں میں افسانے کیا کیا دل میں پھر بھی دھڑکتا رہتا ہے جانے کیا کیا داغ کو چاند آنسو کو موتی زخم کو پھول کہیں ہم کو بھی انداز سکھائے دنیا نے کیا کیا چاند ایسے چہروں والے ہیں چاند اتنے ہی دور جن کے سپنے دیکھتے ہیں ہم دیوانے کیا کیا سوکھے لب پھیکے رخسار اور الجھے ...

مزید پڑھیے

ہم سے پہلے تو کہیں پیار نہ تھا شہر بہ شہر

ہم سے پہلے تو کہیں پیار نہ تھا شہر بہ شہر اپنے ہم راہ یہ سیلاب گیا شہر بہ شہر ایسے بدنام ہوئیں اپنی مہکتی غزلیں جیسے آوارگیٔ موج صبا شہر بہ شہر لوگ کیا کیا نہ گئے توڑ کے پیمان وفا دل کی دھڑکن نے مگر ساتھ دیا شہر بہ شہر ہم کہ معصومؔ ہیں دیہات کے رہنے والے ڈھونڈتے پھرتے ہیں کیا ...

مزید پڑھیے

دلوں پہ زخم لگا کے ہزار گزری بہار

دلوں پہ زخم لگا کے ہزار گزری بہار گئی ہے چھوڑ کے اک یادگار گزری بہار مرے قریب جو کوئی گل بدن مہکا تو آئی یاد کوئی خوش گوار گزری بہار کسی طرح مجھے پاگل نہ کر سکی ورنہ ترے بغیر بھی آئی بہار گزری بہار ہر ایک سرو رواں پر گماں کہ جیسے وہی ہو میرا ماضی مری یادگار گزری بہار مرے نصیب ...

مزید پڑھیے

لگتی ہیں گالی بلڈنگیں

لگتی ہیں گالی بلڈنگیں ساری خیالی بلڈنگیں تم بھی نہ ٹھہرو گے یہاں کہتی ہیں خالی بلڈنگیں میرا پتہ آسیب جاں جن بھوت والی بلڈنگیں سڑکوں پہ سو جاتا ہوں میں منحوس کالی بلڈنگیں چلتی ہوا کے سامنے ٹھہریں مثالی بلڈنگیں

مزید پڑھیے

خون کی ہر بوند پتھر ہو چکی

خون کی ہر بوند پتھر ہو چکی زندگی خطرے سے باہر ہو چکی آندھیوں کی زد پہ اے ریگ رواں بے گھری تیرا مقدر ہو چکی میں نکل آیا حصار جسم سے سرد جب شعلوں کی چادر ہو چکی احتیاطوں سے بھی کچھ حاصل نہیں اب تو یہ مٹی بھی بنجر ہو چکی سایۂ عکس نوا بھی مٹ گیا دھوپ بھی مٹھی برابر ہو چکی

مزید پڑھیے

من کے برگد تلے انگاروں کی مالا بھی جپی

من کے برگد تلے انگاروں کی مالا بھی جپی مجھ سے گوتم کی طرح آگ میں چمپا نہ کھلی رات تنہائی نے کمرے میں جو کروٹ بدلی نیند آنکھوں کو کسی سانپ کے پھن جیسی لگی میرے ہی سانس سے میرے ہی بدن کی چادر کون سمجھائے کسے آئے یقیں کیسے جلی اس بھرے شہر میں اپنایا کسی نے نہ جسے میں نے دیکھا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5533 سے 6203