خود اپنے ساتھ دھوکہ کیوں کروں میں
خود اپنے ساتھ دھوکہ کیوں کروں میں کسی سائے کا پیچھا کیوں کروں میں اسے میں بھول جانا چاہتا ہوں مگر خود پر بھروسہ کیوں کروں میں کبھی سوچوں کہ خود میں لوٹ آؤں کبھی سوچوں کہ ایسا کیوں کروں میں
خود اپنے ساتھ دھوکہ کیوں کروں میں کسی سائے کا پیچھا کیوں کروں میں اسے میں بھول جانا چاہتا ہوں مگر خود پر بھروسہ کیوں کروں میں کبھی سوچوں کہ خود میں لوٹ آؤں کبھی سوچوں کہ ایسا کیوں کروں میں
ہو دن کہ چاہے رات کوئی مسئلہ نہیں میرے لیے حیات کوئی مسئلہ نہیں الجھا ہوا ہوں کب سے سوالوں کے دشت میں کیسے کہوں میں ذات کوئی مسئلہ نہیں چلنا ہے ساتھ ساتھ کہ راہیں بدل لیں ہم تو سوچ میرے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں جو ہو مفید آپ وہی فیصلہ کریں مانیں نہ میری بات کوئی مسئلہ نہیں صحرا ...
دھند ہے یا دھواں سمجھتا ہوں وسعت آسماں سمجھتا ہوں عشق کی لذتوں سے ہوں واقف درد و آہ و فغاں سمجھتا ہوں غرق ہوتے جہاز دیکھے ہیں سیل وقت رواں سمجھتا ہوں گفتگو کرتا ہوں درختوں سے پنچھیوں کی زباں سمجھتا ہوں وہ کمال شعور پایہ ہے ان کہی داستاں سمجھتا ہوں
اک پرندہ شاخ پر بیٹھا ہوا حسرتوں سے آسماں تکتا ہوا اک صدی کی داستاں کہتا ہوا اک شجر دالان میں سوکھا ہوا اک زمیں پیروں تلک سمٹی ہوئی اک سمندر دور تک پھیلا ہوا اک کہانی پھر جنم لیتی ہوئی اک فسانہ دفن پھر ہوتا ہوا اک کرن افلاک سے آتی ہوئی اک اندھیرا چاند پر بیٹھا ہوا اک زمیں دو ...
کیا کسی بات کی سزا ہے مجھے راستہ پھر بلا رہا ہے مجھے زندہ رہنے کی مجھ کو عادت ہے روز مرنے کا تجربہ ہے مجھے اتنا گم ہوں کے اب مرا سایا میرے اندر بھی ڈھونڈتا ہے مجھے چاند کو دیکھ کر یوں لگتا ہے چاند سے کوئی دیکھتا ہے مجھے پہلے تو جستجو تھی منزل کی اب کوئی کام دوسرا ہے مجھے یے ...
تنہا تنہا سہمی سہمی خاموشی جیسی ہیں آوازیں ویسی خاموشی تنہائی میں چونکا دیتی ہے اکثر سناٹے سے باتیں کرتی خاموشی بے مقصد محفل سے بہتر تنہائی بے مطلب باتوں سے اچھی خاموشی دو آوازے ہم راہی اک رستہ کی اور دونوں کے بیچ میں چلتی خاموشی چپکے چپکے گھر کو ڈستی رہتی ہے دروازے کی ...
کبھی جو مل نہ سکی اس خوشی کا حاصل ہے یہ درد ہی تو مری زندگی کا حاصل ہے میں اپنے آپ سے پیچھا نہیں چھڑا پایا مرا وجود مری بے بسی کا حاصل ہے یہ تیرگی بھی کسی روشنی سے نکلی ہے یہ روشنی بھی کسی تیرگی کا حاصل ہے ہزار کاوشیں کیں پر نہیں سمجھ پایا کوئی بتائے تو کیا آدمی کا حاصل ہے مرا ...
رات بھر رونے کا دن تھا پھر جدا ہونے کا دن تھا فصل گل آنے کہ شب تھی خوشبوئیں بونے کا دن تھا تشنگی پینے کہ شب تھی آب جو ہونے کا دن تھا گفتگو کرنے کہ شب تھی خامشی ڈھونے کا دن تھا قافلہ چلنے کہ شب تھی حادثہ ہونے کا دن تھا رات کے جنگل سے آگے چین سے سونے کا دن تھا
رات اک حادثہ ہوا مجھ میں ایک دروازہ سا کھلا مجھ میں میرے اندر چراغ جلتے ہیں رقص کرتی ہے اک ہوا مجھ میں پھر سے آکار لے رہا ہے کہیں ایک چہرہ نیا نیا مجھ میں مجھ کو یہ کام خود ہی کرنا تھا عمر بھر کون جاگتا مجھ میں اب بھی سینہ جلا رہا ہے مرا ایک سورج بجھا ہوا مجھ میں جانے وہ کون ہے ...
قلب کی بنجر زمیں پر خواہشیں بوتے ہوئے خود کو اکثر دیکھتا ہوں خواب میں روتے ہوئے دشت ویراں کا سفر ہے اور نظر کے سامنے معجزے در معجزے در معجزے ہوتے ہوئے گامزن ہیں ہم مسلسل اجنبی منزل کی اور زندگی کی آرزو میں زندگی کھوتے ہوئے کل مرے ہم زاد نے مجھ سے کیا دل کش سوال کس کو دیتا ہوں ...