قومی زبان

اب کوئی دوست تو ایسا بھی بنایا جائے

اب کوئی دوست تو ایسا بھی بنایا جائے جس کو ہر رنج و مصیبت میں بلایا جائے توڑ ڈالے ہیں زمانے سے مراسم سارے حال دل کس سے کہیں کس کو سنایا جائے میں نے کرنی ہے ستاروں سے کوئی راز کی بات ابھی کچھ اور مرے قد کو بڑھایا جائے جس کی فطرت میں ہو بس ایک خدا کی پوجا ایسی مٹی سے کوئی بت نہ ...

مزید پڑھیے

عجب نہیں کہ زمیں پاؤں سے سرک جائے (ردیف .. ن)

عجب نہیں کہ زمیں پاؤں سے سرک جائے ہمارے سر پہ کئی دن سے آسماں بھی نہیں شریف رہ کے گزاری گئی جوانی کا اگرچہ فائدہ کم ہے مگر زیاں بھی نہیں اسے قریب سے دیکھے ہوئے زمانہ ہوا سنا ہے دیکھنے والوں سے اب جواں بھی نہیں میں کوئی دیر کو آیا ہوں اس خرابے میں مری نشست نہیں ہے مرا مکاں بھی ...

مزید پڑھیے

اسیر عشق ہوں درد نہاں سونے نہیں دیتا

اسیر عشق ہوں درد نہاں سونے نہیں دیتا مجھے ڈستی ہے تنہائی مکاں سونے نہیں دیتا جو بخشے تھے بہاروں نے ابھی وہ زخم تازہ ہیں کہ بوئے گل طلسم گلستاں سونے نہیں دیتا مجھے آفاق کی سب منزلیں تسخیر کرنی ہیں یہی جوش جنوں عزم جواں سونے نہیں دیتا نہ وہ سوچوں سے اترے گا نہ آنکھیں چین پائیں ...

مزید پڑھیے

موت ہے اور موت کے خدشات ہیں

موت ہے اور موت کے خدشات ہیں سنسنی ہے ان دکھے خدشات ہیں خوف پھیلا ہے وبا کے روپ میں قریہ قریہ پل رہے خدشات ہیں گر کوئی تریاق ہے وہ ہے یقیں زہر کی صورت لیے خدشات ہیں اس صدی کے آدمی تو ہیں خدا تو نے ہی پیدا کیے خدشات ہیں دائرہ در دائرہ تشکیک ہے بے طرح پھیلے ہوئے خدشات ہیں تجھ میں ...

مزید پڑھیے

محسوس کر رہا ہوں تجھے خوشبوؤں سے میں

محسوس کر رہا ہوں تجھے خوشبوؤں سے میں آواز دے رہا ہوں بڑے فاصلوں سے میں مجھ کو مرے وجود سے کوئی نکال دے تنگ آ چکا ہوں روز کے ان حادثوں سے میں یہ اور بات تجھ کو نہیں پا سکا مگر آیا ترے قریب کئی راستوں سے میں طے ہو سکے گا مجھ سے نہ یہ ذات کا سفر مانوس ہو نہ پاؤں گا تنہائیوں سے ...

مزید پڑھیے

وہ خواب سا پیکر ہے گل تر کی طرح ہے

وہ خواب سا پیکر ہے گل تر کی طرح ہے آنکھوں میں گئی شام کے منظر کی طرح ہے احساس دلاتی ہے یہ پھیلی ہوئی خوشبو اس گھر کی محبت بھی مرے گھر کی طرح ہے میں آئینہ جیسا ہوں کوئی توڑ نہ ڈالے ہر شخص مری راہ میں پتھر کی طرح ہے اک میں ہوں کہ لہروں کی طرح چین نہیں ہے اک وہ ہے کہ خاموش سمندر کی ...

مزید پڑھیے

پیار کیا تھا تم سے میں نے اب احسان جتانا کیا

پیار کیا تھا تم سے میں نے اب احسان جتانا کیا خواب ہوئیں وہ پیار کی باتیں باتوں کو دہرانا کیا راہ وفا ہے ہم سفرو پر عزم رہو ہاں تیز چلو چار قدم پہ منزل ہے اب راہ سے واپس جانا کیا سنگ زنی و طعنہ زنی اس دور کا شیوہ ہے یارو اپنے دل میں کھوٹ نہیں جب دنیا سے گھبرانا کیا مے خانے میں دور ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پر میرے ارمانوں کا خوں

ہر قدم پر میرے ارمانوں کا خوں زندگی تیرا کہاں تک ساتھ دوں آندھیوں کی زد میں ہے میرا وجود اور میں دیوار کی تصویر ہوں کون ہو تم اور کہاں سے آئے ہو سوچتا ہوں اپنے سائے سے کہوں رنگ کی دنیا سے میں اکتا گیا پھول رت میں زہر پی کر سو رہوں چاہتا ہوں تم کو خوشبو کی طرح اب کہ میں آواز ہی ...

مزید پڑھیے

رقص شرر کیا اب کے وحشت ناک ہوا

رقص شرر کیا اب کے وحشت ناک ہوا جلتے جلتے سب کچھ جل کر خاک ہوا سب کو اپنی اپنی پڑی تھی پوچھتے کیا کون وہاں بچ نکلا کون ہلاک ہوا موسم گل سے فصل خزاں کی دوری کیا آنکھ جھپکتے سارا قصہ پاک ہوا کن رنگوں اس صورت کی تعبیر کروں خواب ندی میں اک شعلہ پیراک ہوا ناداں کو آئینہ ہی عیار ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں میں رنگ مے نہیں ہے

ان آنکھوں میں رنگ مے نہیں ہے کچھ اور ہے یہ وہ شے نہیں ہے کشتی تو رواں ہے کب سے شب کی کس گھاٹ لگے گی طے نہیں ہے کیا دل میں بساؤں تیری صورت آئینے میں عکس ہے نہیں ہے دامن کو ذرا جھٹک تو دیکھو دنیا ہے کچھ اور شے نہیں ہے آہنگ سکوت دم بہ دم سن یہ ساز نفس ہے نے نہیں ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5534 سے 6203