قومی زبان

میں نے جب حد سے گزرنے کا ارادہ کر لیا

میں نے جب حد سے گزرنے کا ارادہ کر لیا منزل دشوار کو طے پا پیادہ کر لیا بے حقیقت ہو گئے میری نظر میں مہر و ماہ میں نے جب گھر کے دیئے سے استفادہ کر لیا آنسوؤں نے غم کو عریاں کر دیا ہوتا مگر دل کی غیرت نے تبسم کو لبادہ کر لیا امن کی سب شاہراہیں تنگ ہو کر رہ گئیں حادثوں نے راستہ کتنا ...

مزید پڑھیے

آواز کے سوداگروں میں اتنی فن کاری تو ہے

آواز کے سوداگروں میں اتنی فن کاری تو ہے شعر و ادب کے نام ہی پر گرم بازاری تو ہے کوئی کہے کوئی سنے کوئی لکھے کوئی پڑھے ہر دل کو بہلائے غزل بک جائے بیچاری تو ہے کوؤں کے آگے گنگ ہیں کیا طوطیاں کہ بلبلیں اہل چمن ہیں مطمئن رسم سخن جاری تو ہے مانا زمین کربلا پر دسترس ممکن نہیں لیکن سر ...

مزید پڑھیے

پڑھو عبارت تخلیق درد چہرے پر

پڑھو عبارت تخلیق درد چہرے پر لکھی ہے کرب کی روداد زرد چہرے پر چھپا رہی ہے خد و خال جھریاں بن کر جمی ہوئی تھی سفر میں جو گرد چہرے پر کمال ضبط تو یہ ہے کہ رنگ مایوسی دم شکست بھی جھلکے نہ مرد چہرے پر پگھلتی کیوں نہ بھلا برف اجنبیت کی نظر کی دھوپ جو ٹھہری تھی سرد چہرے پر میں دھول ...

مزید پڑھیے

سرخ رو سب کو سر مقتل نظر آنے لگے

سرخ رو سب کو سر مقتل نظر آنے لگے جب ہوئے ہم آنکھ سے اوجھل نظر آنے لگے شہر والو جان لینا گاؤں میرا آ گیا بچیوں کے سر پہ جب آنچل نظر آنے لگے ہم نے مانگی بھی دعائے ابر رحمت کس گھڑی جب سروں پر ظلم کے بادل نظر آنے لگے آئنہ پر آج کے جمنے نہ دے ماضی کی دھول تاکہ تیرا آنے والا کل نظر آنے ...

مزید پڑھیے

ستائش نہ کیجئے تبرا سہی

ستائش نہ کیجئے تبرا سہی نہیں بنت انگور ٹھرا سہی تأثر نہیں ان کے رخ پر نہ ہو ہے قرآں تو قرآں معرا سہی مگر کتنے سورج ہیں دشمن مرے مری حیثیت ایک ذرہ سہی کہاں چین تیرے جنوں کار کو غم دو جہاں سے مبرا سہی بدن در بدن عشق روح رواں زماں در زماں ایک ڈھرا سہی رعونت غریبی کا محصول ...

مزید پڑھیے

جو میں نے کہہ دیا اس سے مکرنے والا نہیں

جو میں نے کہہ دیا اس سے مکرنے والا نہیں کہ آسمان زمیں پر اترنے والا نہیں میں ریزہ ریزہ ہوں لیکن نمی ابھی تک ہے ہوائیں لاکھ چلیں میں بکھرنے والا نہیں میں جانتا ہوں وہ اچھے دنوں کا ساتھی ہے برے دنوں میں ادھر سے گزرنے والا نہیں ہمارے شہر میں چہرہ نہیں رہا شاید پڑے ہیں آئنہ خانے ...

مزید پڑھیے

یہی اک جسم فانی جاودانی کا احاطہ کرنے والا ہے

یہی اک جسم فانی جاودانی کا احاطہ کرنے والا ہے کرائے کا مکاں ہی لا مکانی کا احاطہ کرنے والا ہے ٹھہر جاؤ گھڑی بھر دھڑکنوں اس تیز رو کا جائزہ لے لوں سکوں اندر کا باہر کی روانی کا احاطہ کرنے والا ہے اسے آنسو سمجھ کر مت گراؤ رہنے دو پلکوں پہ ہی گویا یہی قطرہ تمہاری بے زبانی کا احاطہ ...

مزید پڑھیے

درد تیرا مرے سینے سے نکالا نہ گیا

درد تیرا مرے سینے سے نکالا نہ گیا اک مہاجر کو مدینے سے نکالا نہ گیا میں ترے ساتھ گزارے ہوئے دن جیتا رہا ایک پل بھی تجھے جینے سے نکالا نہ گیا ایک موتی بھی نہ ابھرا مری آنکھوں میں کبھی تیرے بن کچھ بھی دفینے سے نکالا نہ گیا جب نکالا ہے مجھے دل سے تو روتے کیوں ہو تم سے کانٹا بھی ...

مزید پڑھیے

پاؤں پھنسے میں ہاتھ چھڑانے آیا تھا

پاؤں پھنسے میں ہاتھ چھڑانے آیا تھا تم سے مل کر واپس جانے آیا تھا سارا شور مرے اندر کا جاگ اٹھا سناٹوں میں دل بہلانے آیا تھا جنگل جیسی رات کہاں تنہا کٹتی تیرا غم بھی ہاتھ بٹانے آیا تھا دنیا پر میں نے بھی پردہ ڈال دیا وہ بھی دل کی بات بتانے آیا تھا آنکھیں جھپکیں عہد جوانی بیت ...

مزید پڑھیے

تمہارے بن اب کے جان جاں میں نے عید کرنے کی ٹھان لی ہے

تمہارے بن اب کے جان جاں میں نے عید کرنے کی ٹھان لی ہے غموں کے ایک ایک پل سے خوشیاں کشید کرنے کی ٹھان لی ہے میں اس کی باتوں کا زہر اپنی خموشیوں میں اتار لوں گا اگر مضر ہے تو میں نے اس کو مفید کرنے کی ٹھان لی ہے تلاش کی شدتوں نے ارض و سما کی سب دوریاں مٹا دیں سو میں نے اب تیری جستجو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5525 سے 6203