قومی زبان

کاروباری شہروں میں ذہن و دل مشینیں ہیں جسم کارخانہ ہے

کاروباری شہروں میں ذہن و دل مشینیں ہیں جسم کارخانہ ہے جس کی جتنی آمدنی اتنا ہی بڑا اس کے حرص کا دہانہ ہے یہ شعور زادے جو منفعت گزیدہ ہیں حیف ان کی نظروں میں بے غرض ملاقاتیں اور خلوص کی باتیں فعل احمقانہ ہے اپنی ذات سے قربت اپنے نام سے نسبت اپنے کام سے رغبت اپنا خول ہی ان کا خطۂ ...

مزید پڑھیے

وحشت میں دل کتنا کشادہ کرنا پڑتا ہے

وحشت میں دل کتنا کشادہ کرنا پڑتا ہے ان گیلی آنکھوں کو صحرا کرنا پڑتا ہے مجھ کو اک آواز تری سننے کی کوشش میں کتنے سناٹوں کا پیچھا کرنا پڑتا ہے تب کھلتی ہے ہم پر قدر و قیمت پھولوں کی جب کانٹوں کے ساتھ گزارا کرنا پڑتا ہے یار بڑا بن کر رہنا آسان نہیں ہوتا اپنے آپ کو کتنا چھوٹا کرنا ...

مزید پڑھیے

مجھی میں جیتا ہے سورج تمام ہونے تک

مجھی میں جیتا ہے سورج تمام ہونے تک میں اپنے جسم میں آتا ہوں شام ہونے تک خبر ملی ہے مجھے آج اپنے ہونے کی کہیں یہ جھوٹ نہ ہو جائے عام ہونے تک کہاں یہ جرأت اظہار تھی کسی شے میں سکوت شب سے مرے ہم کلام ہونے تک یہ پختگی تھی غموں میں نہ دھڑکنوں میں ثبات تمہارے درد کا دل میں قیام ہونے ...

مزید پڑھیے

اب جنوں کے رت جگے خرد میں آ گئے

اب جنوں کے رت جگے خرد میں آ گئے سارے خواب روشنی کی زد میں آ گئے لوگ پا گئے حقیقتیں قیاس میں ہم یقین سے گماں کی حد میں آ گئے علم کے مراقبے ہیں غیر مستند جہل کے مناظرے سند میں آ گئے لفظ فتح کے جو ترجمان تھے کبھی کیوں سمٹ کے حرف المدد میں آ گئے اک پناہ کیا ملی کہ حسن و عشق کے سب گناہ ...

مزید پڑھیے

لا مکاں سے بھی پرے خود سے ملاقات کریں

لا مکاں سے بھی پرے خود سے ملاقات کریں کھل کے تنہائی کی وسعت پہ ذرا بات کریں ہر بڑے نام کو چھوٹوں سے جلا ملتی ہے شہر کی حاشیہ آرائی مضافات کریں لاج ویرانی کی رکھنی ہے چلو اہل جنوں آبلہ پائی سے آباد خرابات کریں کھیت سوکھے تو ہوا پھر سے سنک جائے گی آپ بادل ہیں تو دعویٰ نہیں برسات ...

مزید پڑھیے

میرے ہم راہ ستارے کبھی جگنو نکلے

میرے ہم راہ ستارے کبھی جگنو نکلے جستجو میں تری ہر رات مہم جو نکلے تیری روتی ہوئی آنکھیں ہیں مری آنکھوں میں ورنہ پتھر میں کہاں جان کہ آنسو نکلے سانس لینے کی جسارت بھی نہ کر پاؤں گا جسم سے میرے جو پل بھر کے لئے تو نکلے اہل دل یونہی تر و تازہ نہیں رکھتے انہیں زخم بھر جائیں تو ممکن ...

مزید پڑھیے

تہی دامن برہنہ پا روانہ ہو گیا ہوں

تہی دامن برہنہ پا روانہ ہو گیا ہوں تباہی چل ترے شانہ بہ شانہ ہو گیا ہوں تری رفتار پر قربان جاؤں اے ترقی میں اپنے عہد میں گزرا زمانہ ہو گیا ہوں میرے اطراف رہتا ہے ہجوم نا مرادی جبین نارسا میں آستانہ ہو گیا ہوں ہوا کی تان پر گاتے ہیں مجھ کو خشک پتے میں ہر ٹوٹے ہوئے دل کا ترانہ ہو ...

مزید پڑھیے

حصول آزادی کی دقتیں

ہند کا آزاد ہو جانا کوئی آساں نہیں دیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایا جائے گا دیکھنا تم سے ابھی کتنے کئے جائیں گے مکر کس طرح تم کو ابھی چکر میں لایا جائے گا تم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہ تم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گا پیشوایان مذاہب کو ملیں گی رشوتیں ڈھونگ تبلیغ ...

مزید پڑھیے

مستقبل

آنے والا ہے بہت جلد ایک ایسا عہد بھی دہر کے حالات موجود فنا ہو جائیں گے اور ہی ہو جائیں گے کچھ یہ زمین و آسماں اور ہی کچھ روز و شب صبح و مسا ہو جائیں گے رفعتوں پر ہر طرف چھا جائے گا ضعف و جمود عرش والے مائل تحت الثریٰ ہو جائیں گے پستیاں کر لیں گی طے سارے مقامات فراز خاک کے ذرے ثریا ...

مزید پڑھیے

اک سایہ میرے جیسا ہے

اک سایہ میرے جیسا ہے جو میرا پیچھا کرتا ہے اب شور سے عاجز سناٹا کانوں میں باتیں کرتا ہے اک موڑ ہے رستے کے آگے اس موڑ کے آگے رستہ ہے میں ایک ٹھکانہ ڈھونڈتا ہوں جو صحرا ہے نہ ہی دریا ہے اک خواب کی وحشت ہے جس میں خود کو ہی مرتے دیکھا ہے یہ قصہ جھوٹ سہی لیکن سننے میں اچھا لگتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5526 سے 6203