قومی زبان

لفظ میں تصویر میں پتھر میں قید

لفظ میں تصویر میں پتھر میں قید سب نے اس کو کر دیا منظر میں قید دل تو بیچارہ یوں ہی بدنام ہے جو بھی ہے وہ سب کا سب ہے سر میں قید صرف اچھا ہونا ہی سب کچھ نہیں قدر ہے انسان کی اب زر میں قید آج کا دن شر پسندوں کا ہے پھر شہر سارا ہو گیا ہے گھر میں قید آسماں کی وسعتیں کروا مجھے اور کب تک ...

مزید پڑھیے

اب بھی آئے ہے وہ گلی میری

اب بھی آئے ہے وہ گلی میری اس کو ہونا ہے آج بھی میری جانتی ہے وہ میری اک اک بات اس نے پڑھ لی ہے ڈایری میری تیز رفتار ہو گیا ہوں میں آگے چلنے لگی گھڑی میری سونے چاندی کے ایک پنجرے میں قید ہے آج کل پری میری خواہشوں کا غلام ہوں میں بھی کام آئی نہ آگہی میری آپ تو بات میری سن ...

مزید پڑھیے

لفظوں کے بت ٹوٹ چکے ہیں (ردیف .. ے)

لفظوں کے بت ٹوٹ چکے ہیں کورا کاغذ پڑا ہوا ہے گدھ نے کب زندوں کو نوچا شیر نے کب مردوں کو چھوا ہے اپنی اپنی بین سنبھالو سنا ہے شہر میں ناگ آیا ہے گونگے بول رہے ہیں پتھر سناٹا ریزہ ریزہ ہے گھر کا کنواں بھی بے مصرف سا ساگر میں تیزاب بھرا ہے سونپ گئی ہے خود کو مجھے وہ ہرا بھرا دن ...

مزید پڑھیے

میرا دکھ بھی کبھی سنے گا کیا

میرا دکھ بھی کبھی سنے گا کیا بات مجھ سے بھی وہ کرے گا کیا آج کا دن مجھے قیامت ہے اور یہ دن کبھی ڈھلے گا کیا ہو چکا ہوں میں جل کے راکھ یہاں راکھ کا ڈھیر پھر جلے گا کیا اب بھی انگلی پکڑ کے وہ میری سوچتا رہتا ہوں چلے گا کیا سامنے میرے کل جو بیٹھا تھا وہ دوبارہ کبھی ملے گا کیا مدتوں ...

مزید پڑھیے

میں جان گیا ہوں وہ مرا غم نہ کرے گا

میں جان گیا ہوں وہ مرا غم نہ کرے گا اچھا ہے مرے بعد وہ ماتم نہ کرے گا کیا کوئی کرے گا مرے زخموں کا مداوا جب میرا لہو خود مجھے مرہم نہ کرے گا جادو اسے آتا ہے یہ معلوم ہے سب کو جادو سے کسی شے کو وہ درہم نہ کرے گا اب شیخ سے امید مروت کی نہ رکھنا نذرانہ نہیں دو گے تو وہ دم نہ کرے ...

مزید پڑھیے

زندگی کی راہ میں تنہائیاں رکھ دے گا وہ

زندگی کی راہ میں تنہائیاں رکھ دے گا وہ اپنی یادوں کی فقط پرچھائیاں رکھ دے گا وہ آخری دم تک جو گونجے گی خیالوں میں ترے درد کی کچھ اس طرح شہنائیاں رکھ دے گا وہ اس کے لہجے میں انا اور تلخیاں گفتار میں کڑوی باتوں میں مگر سچائیاں رکھ دے گا وہ اس کو آتا ہے مزاجوں کو بدلنے کا ہنر فطرت ...

مزید پڑھیے

علم کی ضرورت

جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاری زمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جاری یہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کا بغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماری بناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساں سکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا داری یہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پر یہی ...

مزید پڑھیے

ملک کی محبت

جسے ملک سے اپنے الفت نہیں ہے وہ دل قابل عفو و رحمت نہیں ہے بڑی چیز ہیں اتحاد و محبت بغیر ان کے دنیا میں عزت نہیں ہے خدایا وطن کی محبت عطا کر کہ اس کے سوا کوئی دولت نہیں ہے یہ آپس کی ناچاقیاں ختم کر دو کوئی اس سے بڑھ کر جہالت نہیں ہے جو تعلیم دیتا ہے جنگ و جدل کی کبھی مصلح ملک و ملت ...

مزید پڑھیے

دعا

یا خدا ہم کو آدمیت دے ملک اور قوم کی محبت دے کر عطا اس قدر تمیز ہمیں کہ ہو اپنا وطن عزیز ہمیں اس کی خدمت کو فخر جانیں ہم اس کی ہر بات دل سے مانیں ہم پھوٹ اور افتراق کھو دیں ہم پاپ کی ناؤ کو ڈبو دیں ہم حسد و کینہ و خصومت و شر کر دیں ان میں سے سب کو ملک بدر ایک ہو جائیں سب خواص و عوام نہ ...

مزید پڑھیے

غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ

غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ دیپ ہر گام پہ جل جائیں گے رفتہ رفتہ آبلہ پائی ہی کافی ہے ترا رخت سفر خار خود گل میں بدل جائیں گے رفتہ رفتہ طور پر آ کے ذرا آپ اٹھائیں تو نقاب سنگ دل بن کے پگھل جائیں گے رفتہ رفتہ چشم ساقی سے کہاں پی ہے کہ گر کر نہ اٹھیں جام سے پی ہے سنبھل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5523 سے 6203