قومی زبان

اسے جینا نہیں آتا جسے مرنا نہیں آتا

خدا اس قوم کو عزت نہیں دیتا زمانے میں جسے قومی بزرگوں کا ادب کرنا نہیں آتا یقیناً ہوتی ہے مرنے سے بد تر زندگی اس کی جسے ملک و وطن کے واسطے مرنا نہیں آتا بتوں کا خوف رکھتا ہے اسے لرزہ بہ تن ہر دم خدا کے خوف سے جس شخص کو ڈرنا نہیں آتا جواں مردوں ہی کا ہے کام قطع راہ حریت کہ اس منزل میں ...

مزید پڑھیے

بدل دے

کب تک وطن آلام و مصائب میں خدایا اب اس کی مصیبت کو مسرت سے بدل دے کب تک یہ تباہ ستم نکبت داد بار اب اس کی نحوست کو سعادت سے بدل دے کب تک یہ شکار الم فاقہ و افلاس اب اس کی فلاکت کو امارت سے بدل دے کب تک یہ گرفتار قتال و جدل و جنگ اب اس کی عداوت کو محبت سے بدل دے کب تک یہ پشیمان بلا نذر ...

مزید پڑھیے

راہ راست

جو حق پر ہے ایمان کامل ہمارا بنا لے گا کیا زور باطل ہمارا جو ہم متحد ہو کے رہتے وطن میں نہ تھا کوئی مد مقابل ہمارا غلامی کی خو بو مسلط ہے ہم پر دماغ اب ہمارا نہ اب دل ہمارا رہ راست سے گر قدم ڈگمگایا نہ ہوگا گزر تا بہ منزل ہمارا جہاں سینٹ پر سینٹ ہیں اہل عالم وہاں درجہ فصل ہے نل ...

مزید پڑھیے

پیام آزادی

مقام حق ہے بلا شک مقام آزادی بلند عرش سے بھی کچھ ہے بام آزادی نہ ہو سکے گا کبھی محترم جہاں میں تو جو تیرے دل میں نہیں احترام آزادی سنا رہا ہے تجھے انقلاب دہر جو کچھ سن اور غور سے سن وہ پیام آزادی کہاں تلک یہ تباہی کی زندگی غافل اٹھ اور جلد بنا اک نظام آزادی اٹھ اور ہاتھ میں لے ...

مزید پڑھیے

نعرۂ حق

جفا شعار ستم کیش حریت دشمن ڈرا رہا ہے تو آنکھیں یہ کیا دکھا کے مجھے مرے قدم کو ہو جنبش یہ غیر ممکن ہے پیام شوق سے دے درد و ابتلا کے مجھے کوئی مجھے رہ حق سے ہٹا نہیں سکتا اگر یقین نہ ہو دیکھ لے ہٹا کے مجھے زباں پہ کلمۂ حق کے سوا جو حرف آ جائے تو پھونک دے مری غیرت ابھی جلا کے مجھے ہے ...

مزید پڑھیے

نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میں

نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میں کہو بلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشیانے میں پچہتر لاکھ اک بیکار مد میں صرف کر دیں گے رعایا کے لئے کوڑی نہیں جن کے خزانے میں جو ارزاں ہے تو ہے ان کی متاع آبرو ورنہ ذرا سی چیز بھی بے حد گراں ہے اس زمانے میں جفا و ظلم نصب العین ہوگا جس حکومت ...

مزید پڑھیے

ہر گلی کوچے میں لشکر دیکھو

ہر گلی کوچے میں لشکر دیکھو دوستو شہر کا منظر دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ گھر جاؤ گے کس جگہ پہنچے ہو آخر دیکھو کتنی خوش حال ہے ساری دنیا کتنا ویران ہے یہ گھر دیکھو بند کمروں میں مقفل لوگو! کھڑکیاں کھول کے باہر دیکھو کس طرح زندہ ہیں خوش ہیں کتنے جانے والو! کبھی آ کر دیکھو

مزید پڑھیے

علم بھی آزار لگتا ہے مجھے

علم بھی آزار لگتا ہے مجھے آدمی اخبار لگتا ہے مجھے چیختی سڑکیں دھواں پٹرول بو شہر تو بیمار لگتا ہے مجھے اس قدر محفوظ رہتا ہے کہ وہ رام کا اوتار لگتا ہے مجھے روز نظمیں کہنا چھپوانا کہیں ایک کاروبار لگتا ہے مجھے شاعری اچھی بری معلوم ہے باقی سب بے کار لگتا ہے مجھے

مزید پڑھیے

وہ ہے بھگوان وہ پتھر میں نہیں رہ سکتا

وہ ہے بھگوان وہ پتھر میں نہیں رہ سکتا وہ کسی اور کے پیکر میں نہیں رہ سکتا دھرتی آکاش سمے کچھ بھی نہیں اس کے لیے وہ کسی وقت مقرر میں نہیں رہ سکتا وہ ہے لا انتہا محبوس نہیں ہوگا وہ عکس اس کا کسی منظر میں نہیں رہ سکتا دن کا راجا ہوں اجالا ہے سنگھاسن میرا میرا دم گھٹتا ہے میں گھر میں ...

مزید پڑھیے

نئے منظر کی جستجو بھی کروں

نئے منظر کی جستجو بھی کروں میں اسے اپنے روبرو بھی کروں سب سے امید بھی رکھوں اچھی اور ایک ایک کو عدو بھی کروں حسن اس کا مجھے عبادت سا اپنی آنکھیں ذرا وضو بھی کروں اس کے دل کو پسیجنا ہے مجھے اپنے آنسو کبھی لہو بھی کروں ساری مخلوق ستر‌ پوش نہیں حسن کو رشک آبرو بھی کروں لے لوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5522 سے 6203