اسے جینا نہیں آتا جسے مرنا نہیں آتا
خدا اس قوم کو عزت نہیں دیتا زمانے میں جسے قومی بزرگوں کا ادب کرنا نہیں آتا یقیناً ہوتی ہے مرنے سے بد تر زندگی اس کی جسے ملک و وطن کے واسطے مرنا نہیں آتا بتوں کا خوف رکھتا ہے اسے لرزہ بہ تن ہر دم خدا کے خوف سے جس شخص کو ڈرنا نہیں آتا جواں مردوں ہی کا ہے کام قطع راہ حریت کہ اس منزل میں ...