قومی زبان

وہ مجھے معتبر نہ دیکھ سکا

وہ مجھے معتبر نہ دیکھ سکا اور پھر عمر بھر نہ دیکھ سکا اس کو منزل تو دکھ گئی فوراً پر وہ دور سفر نہ دیکھ سکا کیا بتاؤں ستم ظریف کا حال وہ مجھے اک نظر نہ دیکھ سکا تجھ کو کیسے دکھائی دیتا میں تو مجھے اس قدر نہ دیکھ سکا وہ مجھے بار بار اڑاتا رہا اور مرے خستہ پر نہ دیکھ سکا میرے ...

مزید پڑھیے

عارضی راحتوں کے قائل ہیں

عارضی راحتوں کے قائل ہیں لوگ آسائشوں کے قائل ہیں میں سمجھتا تھا آپ کو اپنا آپ تو سینکڑوں کے قائل ہیں یار تو عیب ہی تلاشیں گے آپ کیوں خامیوں کے قائل ہیں کافی مشکل ہے آپ تک پہنچیں رنج بس شاعروں کے قائل ہیں تم کو حیرت نہیں ہوئی احمدؔ تلخ کانٹے گلوں کے قائل ہیں

مزید پڑھیے

ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت

ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت مجھ کو بتلا میں کیا کروں وحشت ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت چاہے جتنا سنوار لوں خود کو آئنے میں مگر لگوں وحشت جا چلی جا کہیں میں چھپ جاؤں تب تو آنا میں جب کہوں وحشت در کھٹکنے پہ میں نے جب پوچھا کوئی کہنے لگا میں ہوں وحشت آج ...

مزید پڑھیے

تیری قربت کے عارضی لمحے

تیری قربت کے عارضی لمحے مجھ کو کافی ہیں سرسری لمحے تو بھی ہو اور تیری خوشبو بھی لمس کے جاوداں غنی لمحے پیر پھسلا مرا میں ڈوب گیا تیری آنکھوں میں داخلی لمحے اس کو آئی حیا تو کب آئی میری جندڑی کے آخری لمحے لمحہ لمحہ تجھے ستائیں گے ایسے ظالم ہیں آدمی لمحے یار سے بچ بھی جائے تو ...

مزید پڑھیے

ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت

ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت مجھ کو بتلا میں کیا کروں وحشت ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت چاہے جتنا سنوار لوں خود کو آئینے میں مگر لگوں وحشت جا چلی جا کہیں میں چھپ جاؤں تب تو آنا میں جب کہوں وحشت در کھٹکنے پہ میں نے جب پوچھا کوئی کہنے لگا میں ہوں ...

مزید پڑھیے

درکار تھا قرار بلانا پڑا اسے

درکار تھا قرار بلانا پڑا اسے آواز دی تو لوٹ کے آنا پڑا اسے میں کون ہوں کہاں سے ہوں اور کس کا پیار ہوں بھولا ہوا تھا مجھ کو بتانا پڑا اسے جاتے ہوئے سبھی سے ملایا تھا اس نے ہاتھ اور سب میں میں بھی تھا سو ملانا پڑا اسے میری سبھی دعاؤں کا محور وہی تو تھا نا چاہتے ہوئے بھی بھلانا پڑا ...

مزید پڑھیے

وصل کا بیج بو نہیں پایا

وصل کا بیج بو نہیں پایا رات زندہ تھا سو نہیں پایا فانی دنیا کے اس مسافر نے وہ بھی کھویا ہے جو نہیں پایا میری آنکھوں میں خواب بستے ہیں زندگی بھر میں رو نہیں پایا رقص کرتا ہوں میں اداسی میں میں نے محبوب کو نہیں پایا اس نے مجھ سے کہا ملو احمدؔ اور مجھ سے یہ ہو نہیں پایا

مزید پڑھیے

نہ پلکیں جھکاؤ نہ نظریں چراؤ

نہ پلکیں جھکاؤ نہ نظریں چراؤ نگاہوں سے میری نگاہیں ملاؤ اشاروں اشاروں میں کیا کہہ رہے ہو لبوں کو دو جنبش زباں تو ہلاؤ ستم کر رہی ہیں یہ ان کی ادائیں مرے رب حسینوں سے ہم کو بچاؤ غم زندگی زندگی بھر رہے گا اسے بھول کر تم ذرا مسکراؤ جو پہلے ہوا تھا وہی ہو رہا ہے سیاست کہ خاطر ہمیں ...

مزید پڑھیے

ایسے ہی نہیں اتنی یہ شوقین ہوئی ہے

ایسے ہی نہیں اتنی یہ شوقین ہوئی ہے تحریر مری خون سے رنگین ہوئی ہے اے عقل گنہ گار تری بات میں آ کر شہر دل جذبات کی توہین ہوئی ہے گزرے گی قیامت ابھی اک سمت گماں سے آنکھوں کو کھلا رکھنے کی تلقین ہوئی ہے اس شہر دل آزار کے ہر کوچے گلی میں خوابوں کی بڑی دھوم سے تدفین ہوئی ہے اٹھتا ہے ...

مزید پڑھیے

وحشت دل مری کشکول گدائی مانگے

وحشت دل مری کشکول گدائی مانگے جسم کی قید سے تدبیر رہائی مانگے کتنی حساس عدالت ہے مرے ملک تری جو کہ مظلوم سے آہوں کی صفائی مانگے ایک قطرہ نہ پلائیں کبھی دیدار کا جو دل مرا ایسے حسینوں سے دہائی مانگے کیا میں دوں گا اسے رسوائی و ذلت کے سوا باپ میرا کبھی میری جو کمائی مانگے ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5513 سے 6203