وہ جو پھول تھے تری یاد کے تہہ دست خار چلے گئے
وہ جو پھول تھے تری یاد کے تہہ دست خار چلے گئے ترے شہر میں بھی سکون ہے ترے بے قرار چلے گئے نہ وہ اشک اب نہ وہ آبلے نہ وہ چیختی ہوئی دھڑکنیں مری ذات سے ترے درد کے سبھی اشتہار چلے گئے نہ وہ یاد ہے نہ وہ ہجر ہے نہ نگاہ ناز کا ذکر ہے مرے ذہن سے تری فکر کے سبھی روزگار چلے گئے تھے وہ ...