قومی زبان

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی پھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لی مدتوں قائم رہیں گی اب دلوں میں گرمیاں میں نے فوٹو لے لیا اس نے نظر پہچان لی رو رہے ہیں دوست میری لاش پر بے اختیار یہ نہیں دریافت کرتے کس نے اس کی جان لی میں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیا رہ گئے ...

مزید پڑھیے

وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے

وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے وہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہے وہ گلوں میں گلوں کی سی بو نہ رہی وہ عزیزوں میں لطف کی خو نہ رہی وہ حسینوں میں رنگ وفا نہ رہا کہیں اور کی کیا وہ ہمیں نہ رہے نہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی ...

مزید پڑھیے

رات جب ٹوٹ کر بکھر جائے

رات جب ٹوٹ کر بکھر جائے جاگنے والا پھر کدھر جائے عمر گزری ہے جیسے کانوں سے سرسراتی ہوا گزر جائے اپنی یادیں بھی ساتھ لے جا تو یہ ترا قرض بھی اتر جائے تیز چلنے میں گر نہ جائے کہیں وقت سے بول دو ٹھہر جائے اب تو تو بھی نہیں ہے دھڑکن میں دل کا کیا کام اب وہ مر جائے

مزید پڑھیے

دل مرا سوز نہاں سے عمر بھر بیتاب تھا

دل مرا سوز نہاں سے عمر بھر بیتاب تھا کشتئ دل کا مقدر پر خطر گرداب تھا واں کہ عارض سرخ تھا رنگ طلائے ناب سے یاں وفور اشک سے مژگاں مرا سیماب تھا جیسے کھوجے کافروں میں نکہت ایماں کوئی حاصل حق اس جہاں میں اس قدر نایاب تھا واں کہ اس کو نیند مثل مغفرت حاصل رہی یاں کوئی آزردگی سے تا ...

مزید پڑھیے

جنگ حیات و موت میں کیا کیا نہیں ہوا

جنگ حیات و موت میں کیا کیا نہیں ہوا گزرا ہے درد حد سے پہ چارہ نہیں ہوا میں نے سدا رکھیں یہیں قطروں سی فطرتیں میں آج تک غرور کا دریا نہیں ہوا کیا حادثہ ہے یہ بھی کہ رشتہ ترا مرا بس بیج رہ گیا کبھی پودا نہیں ہوا جب علم نے جہان کو تقسیم کر دیا اچھا ہے لا خرد ہوں میں دانا نہیں ...

مزید پڑھیے

فن جو معیار تک نہیں پہنچا

فن جو معیار تک نہیں پہنچا اپنے شہکار تک نہیں پہنچا پگڑی پیروں میں کیسے میں رکھتا ہاتھ دستار تک نہیں پہنچا کوئی انعام کوئی بھی تمغہ سچے حق دار تک نہیں پہنچا ایسا ہر شخص ہے مسیحا اب جو کبھی دار تک نہیں پہنچا ہر خدا جنتوں میں ہے محدود کوئی سنسار تک نہیں پہنچا چارہ گر سب کے پاس ...

مزید پڑھیے

وہ ماہتاب بھی خوشبو سے بھر گیا ہوگا

وہ ماہتاب بھی خوشبو سے بھر گیا ہوگا جو چاندنی نے تری زلف کو چھوا ہوگا ترے لبوں سے جو نکلا تھا اک تبسم سا مرے لیے تو وہی گیت بن گیا ہوگا لکھا ہے آج ترا نام میں نے کاغذ پر یہ میرا لفظ بھی اترا کے چل رہا ہوگا مری پلک پہ ہے احساس جیسے مخمل سا تمہارا خواب اسے چھو کے چل دیا ہوگا مجھے ...

مزید پڑھیے

سب ہے فانی یہاں سنسار میں کس کا کیا ہے

سب ہے فانی یہاں سنسار میں کس کا کیا ہے فکر پھر بھی ہے تجھے اپنا پرایا کیا ہے آپ کا پہلا ہی انداز بتا دیتا ہے آپ کو آپ کے والد نے سکھایا کیا ہے زندگی خود پہ تو اتنا بھی گماں مت کرنا چند سانسوں کے سوا تیرا اثاثہ کیا ہے پھر سے اک اور لڑائی کے بہانے کے سوا تم بتا دو کہ کسی جنگ سے ملتا ...

مزید پڑھیے

یوں ہی ہر بات پہ ہنسنے کا بہانہ آئے

یوں ہی ہر بات پہ ہنسنے کا بہانہ آئے پھر وہ معصوم سا بچپن کا زمانہ آئے کاش لوٹیں مرے پاپا بھی کھلونے لے کر کاش پھر سے مرے ہاتھوں میں خزانہ آئے کاش دنیا کی بھی فطرت ہو مری ماں جیسی جب میں بن بات کے روٹھوں تو منانا آئے ہم کو قدرت ہی سکھا دیتی ہے کتنی باتیں کاش استادوں کو قدرت سا ...

مزید پڑھیے

بھول پائے نہ تجھے آج بھی رونے والے

بھول پائے نہ تجھے آج بھی رونے والے تو کہاں ہے مری آنکھوں کو بھگونے والے ہم کسی غیر کے ہو جائیں یہ ممکن ہی نہیں اور تم تو کبھی اپنے نہیں ہونے والے سوچتے ہیں کہ کہاں جا کے تلاشیں ان کو ہم کو کچھ دوست ملے تھے کبھی کھونے والے ریت کے جیسا ہے اب تو یہ مقدر میرا خود بکھر جائیں گے اب مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5436 سے 6203