قومی زبان

روایات کی تخلیق

میرے نغمے تو روایات کے پابند نہیں تو نے شاید یہی سمجھا تھا ندیم تو نے سمجھا تھا کہ شبنم کی خنک تابی سے میں ترا رنگ محل اور سجا ہی دوں گا تو نے سمجھا تھا کہ پیپل کے گھنے سائے میں اپنے کالج کے ہی رومان سناؤں گا تجھے ایک رنگین سی تتلی کے پروں کے قصے کچھ سحر کار نگاہوں کے بیاں کچھ جواں ...

مزید پڑھیے

نیا ادب

ہاں تو میں آپ سے کہتا تھا جناب زندگی جبر کی پابند نہیں رہ سکتی اور ندی اسی دھارے پہ نہیں بہہ سکتی جس میں ماضی کی چتاؤں کے سوا جس میں مرگھٹ کی ہواؤں کے سوا اور تو کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں ہے شاید آپ بیکار مری بات پہ جھنجھلاتے ہیں کون کہتا ہے کہ ماضی کو برا کہتا ہوں میں کہوں یہ کسی ...

مزید پڑھیے

آوارہ

خوب ہنس لو مری آوارہ مزاجی پر تم میں نے برسوں یوں ہی کھائے ہیں محبت کے فریب اب نہ احساس تقدس نہ روایت کی فکر اب اجالوں میں نہ کھاؤں گی میں ظلمت کے فریب خوب ہنس لو کہ مرے حال پہ سب ہنستے ہیں میری آنکھوں سے کسی نے بھی نہ آنسو پونچھے مجھ کو ہمدرد نگاہوں کی ضرورت بھی نہیں اور شعلوں کو ...

مزید پڑھیے

جمود

یہ شام شام اودھ نہیں ہے جسے تمہاری سیاہ زلفیں چھپا سکیں گی یہ صبح صبح طرب نہیں ہے یہ اک دھندلکا ہے ایک کہرا ابھرتے سورج کی گرم کرنوں کے خواب سیال ہو گئے ہیں زمین اپنی رگوں کی گرمی لٹا چکی ہے حیات آنسو بہا رہی ہے ہر ایک برگ و ثمر پہ موتی جھلک رہے ہیں تم اپنے آنچل پہ بزم پرویں سجا چکی ...

مزید پڑھیے

جب بھی گلزار سے لہو نکلا

جب بھی گلزار سے لہو نکلا اس کی تکرار سے لہو نکلا دیکھتے ہی مرے جنازے کو چشم اغیار سے لہو نکلا جب لگا مجھ پہ عشق کا بہتان میرے کردار سے لہو نکلا مدتوں بعد ڈایری کھولی سبھی اشعار سے لہو نکلا بوڑھا ہوتے ہی اڑ گئے پنچھی اور اشجار سے لہو نکلا مرنے پر اس شریر لڑکی کے یار اخبار سے ...

مزید پڑھیے

روٹھ کر اس نے جتایا بھی نہیں

روٹھ کر اس نے جتایا بھی نہیں کیوں ہے وہ برہم بتایا بھی نہیں چل دیا وہ بزم ماتم چھوڑ کر حال دل اپنا سنایا بھی نہیں کیوں خزاں نے گھیر رکھی ہے بہار پنچھی کوئی چہچہایا بھی نہیں ان سے ملتے ہی میں پتھر ہو گیا ہاتھ پکڑا اور دبایا بھی نہیں اک عجب دوراہے پر آ پہنچا ہوں وہ نہیں اپنا ...

مزید پڑھیے

ہوا ہے تیری محبت کا حوصلہ ساقی

ہوا ہے تیری محبت کا حوصلہ ساقی مگر گراں ہے قناعت کا مرحلہ ساقی نظر نظر میں جگہ ڈھونڈھتا رہا میکش کوئی تو جانتا رندی کا مرتبہ ساقی بلا کشان در مے کدہ کہاں جائیں قدم قدم ہے قیامت کا فاصلہ ساقی مری حیات کا سب کچھ فضائے مے خانہ سبو و جام ترا ایک مشغلہ ساقی یہ دشت‌ تشنہ لبی ہے ...

مزید پڑھیے

دار پہ چڑھ کے جو تجدید وفا ہوتی ہے

دار پہ چڑھ کے جو تجدید وفا ہوتی ہے اس شہادت پہ تو سو جان فدا ہوتی ہے جن کو دعوئے خرد ہو ذرا آ کر دیکھیں عشق کی راہ بہت ہوش ربا ہوتی ہے درد میں ڈوبی نگاہوں کی زباں ہے گویا اور باتوں سے گو یہ بات جدا ہوتی ہے حسن جب سوز محبت سے جلا پاتا ہے کیا تجلی پس فانوس وفا ہوتی ہے ان حسیں ...

مزید پڑھیے

کبھی تو خواب میں آؤ کہ رات بھاری ہے

کبھی تو خواب میں آؤ کہ رات بھاری ہے بجھے چراغ جلاؤ کہ رات بھاری ہے میری امید کی دنیا ہے سونی سونی سی ذرا سی آس بندھاؤ کہ رات بھاری ہے مرا وجود اداسی کی ایک پرچھائی مری حیات پہ چھاؤ کہ رات بھاری ہے نفس نفس میں تمنا کہ ہچکیوں کی کسک رخ جمیل دکھاؤ کہ رات بھاری ہے یہ نیند ہے ذرا ...

مزید پڑھیے

داروئے ہوش ربا نرگس بیمار تو ہو

داروئے ہوش ربا نرگس بیمار تو ہو اب عناں گیر خرد گیسوئے خم دار تو ہو حسن کا ناز تجلی ہے نیاز آمادہ عشق آداب تمنا کے سزاوار تو ہو جرأت شوق سے پندار کرم جھک کے ملے حوصلہ مند کوئی ایسا گنہ گار تو ہو لالہ کاری سے رگ جاں کے گلستاں لہکے ہر نفس ایک لچکتی ہوئی تلوار تو ہو دل سے وہ جلوہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5361 سے 6203