قومی زبان

شناسائی

رات کے ہاتھ پہ جلتی ہوئی اک شمع وفا اپنا حق مانگتی ہے دور خوابوں کے جزیرے میں کسی روزن سے صبح کی ایک کرن جھانکتی ہے وہ کرن درپئے آزار ہوئی جاتی ہے میری غم خوار ہوئی جاتی ہے آؤ کرنوں کو اندھیروں کا کفن پہنائیں اک چمکتا ہوا سورج سر مقتل لائیں تم مرے پاس رہو اور یہی بات کہو آج بھی حرف ...

مزید پڑھیے

کشمیر

سرخ پھولوں سے لہو پھوٹ رہا ہے شاید آج جنت میں جہنم کے نظارے دیکھو آج مزدور کے ماتھے کا پسینہ بن کر آسمانوں سے بھی ٹوٹیں گے ستارے دیکھو آج محکوم نگاہوں کو جلال آیا ہے راکھ کی گود میں پلتے ہیں شرارے دیکھو آج ایوان حکومت کے ستوں کانپ اٹھے کس طرح مڑ گئے یہ خون کے دھارے دیکھو جبر اور ...

مزید پڑھیے

خود کشی سے پہلے

زندگی ناچ کہ ہر لمحہ ہے جنت بہ کنار دیکھ یہ لب ہیں یہ آنکھیں یہ گلابی رخسار پھر نہ آئے گی پلٹ کر تری دنیا میں بہار آج کی رات غنیمت ہے چراغاں کر لیں ایک انگڑائی جو لی کھل گئیں کالی زلفیں پھر مجھے کھینچ رہی ہیں یہ گھنیری پلکیں دیکھ ہیجان سے لرزاں ہیں یہ عارض کی رگیں آج اس جنس گراں ...

مزید پڑھیے

سالگرہ

کون گستاخ ہے کیا نام ہے کیوں آیا ہے پہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکو اپنی بندوقوں کی نالی سے ڈراؤ اس کو اور اس پر جو نہ مانے اسے توپوں کی سلامی دے دو جشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہے آج محلوں میں جلیں گے مہ و انجم کے چراغ آج بجھتے ہوئے چہروں کی ضرورت کیا ہے آج مایوس نگاہوں کی ضرورت ...

مزید پڑھیے

ابھی تو میں جوان ہوں

ابھی تو میں جوان ہوں جوان ہو تو زندگی کی نبض گدگدا تو دو جوان ہو تو وقت کی سیاہیاں مٹا تو دو یہ آگ لگ رہی ہے کیوں اسے ذرا بجھا تو دو ابھی تو میں جوان ہوں جوان ہو تو آندھیوں سے ڈر رہے ہو کس لئے جوان ہو تو بے کسی سے مر رہے ہو کس لئے عروس نو کی طرح تم سنور رہے ہو کس لئے ابھی تو میں جوان ...

مزید پڑھیے

پردۂ زنگاری

دیکھ ان ریشمی پردوں کی حدوں سے باہر دیکھ لوہے کی سلاخوں سے پرے دیکھ سڑکوں پہ یہ آوارہ مزاجوں کا ہجوم دیکھ تہذیب کے ماروں کا ہجوم اپنی آنکھوں میں چھپائے ہوئے ارمان کی لاش قافلے آتے چلے جاتے ہیں زندگی ایک ہی محور کا سہارا لے کر ناچتے ناچتے تھک جاتی ہے ناچتے ناچتے تھک جاتی ہے تیرے ...

مزید پڑھیے

استقبال

ابل رہا ہے ترنم چھلک رہی ہے شراب پیو پیو کہ نئے سال کی کرن پھوٹی مگر یہ کون ہے ہر بار مجھ سے کہتا ہے ترا خمار بھی جھوٹا شراب بھی جھوٹی وہ دیکھو بنت کلیسا کی نیلگوں آنکھیں جھکی جھکی سی ہیں پلکیں مگر سبو دے گی یہ چیخ ہاں یہ تمدن کی ایک ہچکی تھی اسی دیار میں انسانیت لہو دے گی مگر لہو ...

مزید پڑھیے

میری شاعری

زندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیم جائزہ لیتا ہوں ہر موڑ پہ شاعر کا دماغ ہر بدلتے ہوئے منظر پہ نظر رکھتا ہوں اور تاریک سی راتوں میں جلاتا ہوں چراغ زندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیم جھلملاتے ہوئے آنچل میں سکوں ڈھونڈ چکا اک تبسم کے لئے ایک اشارے کے لئے اپنے جذبات میں انداز ...

مزید پڑھیے

شاعر

آج پھر سنولا رہا ہے عارض روئے حیات موت کے قانون پر ہے زندگی کا گرم ہاتھ جھلملاتا جا رہا ہے تند آندھی میں چراغ مل رہا ہے خون کے قطروں سے منزل کا سراغ آ رہا ہے فاقہ کش مزدور کے چہرے پہ رنگ کھردرے ہاتھوں سے اب ٹکرا رہے ہیں جام و سنگ چھٹ رہی ہے نبض ہستی آ رہا ہے انقلاب اٹھ رہا ہے آج ...

مزید پڑھیے

خط راہ گزار

سلسلے خواب کے گمنام جزیروں کی طرح سینۂ آب پہ ہیں رقص کناں کون سمجھے کہ یہ اندیشۂ فردا کی فسوں کاری ہے ماہ و خورشید نے پھینکے ہیں کئی جال ادھر تیرگی گیسوئے شب تار کی زنجیر لیے میرے خوابوں کو جکڑنے کے لیے آئی ہے یہ طلسم سحر و شام بھلا کیا جانے کتنے دل خون ہیں انگشت حنائی کے لیے کتنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5360 سے 6203