قومی زبان

تم کو دیکھا ہے ابھی تک یہ گماں ہوتا ہے

تم کو دیکھا ہے ابھی تک یہ گماں ہوتا ہے نقش جو دل میں ہے آنکھوں سے نہاں ہوتا ہے شوق کا عالم اعجاز عیاں ہوتا ہے کھنچ کے آتا ہے یہاں حسن جہاں ہوتا ہے قصۂ درد خموشی سے عیاں ہوتا ہے طور اظہار نظر طرز بیاں ہوتا ہے رات خاموش ہے ایسے میں ستارو سن لو دل مضطر مرا مائل بہ فغاں ہوتا ہے میری ...

مزید پڑھیے

یاد آئی ہے تری سخت مقام آیا ہے

یاد آئی ہے تری سخت مقام آیا ہے دل کے صحرا میں یہ وقت سر شام آیا ہے اک نئے رنگ میں آج ان کا پیام آیا ہے آرزؤں کے لئے نام بنام آیا ہے جاں بہ لب شوق کے سجدے بھی تڑپ اٹھے ہیں ان کے انداز تغافل کو سلام آیا ہے میرے غم خانہ کے اندوہ خموشی کا حریف کیسی بیگانہ مزاجی کا کلام آیا ہے ہل رہی ...

مزید پڑھیے

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون اتر رہا ہے شمارؔ آج میرے دھیان سے کون ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون لہو میں آگ لگا کر یہ کون ہنستا ہے یہ انتقام سا لیتا ہے روح و جان سے کون یہ دار چوم کے مسکا رہا ہے کون ادھر گزر رہا ہے تمہارے یہ امتحان سے ...

مزید پڑھیے

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ ابھی ...

مزید پڑھیے

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے یہ دل ملول تھا آزار سے نکلتے ہوئے بڑی ہی دیر تلک دھوپ مجھ کو چھو نہ سکی تمہارے سایۂ دیوار سے نکلتے ہوئے کہ پھر سے تخت کو آنا تھا میرے قدموں میں میں پر یقین تھا دربار سے نکلتے ہوئے شعاع نور کے پھوٹے سے جاں لرزتی تھی تمہاری گرمئ رخسار سے نکلتے ...

مزید پڑھیے

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا اور اس کے بعد فقط آندھیوں کو آنا تھا میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا وگرنہ کون اٹھاتا یہ جسم و جاں کے عذاب یہ زندگی تو محبت کا اک بہانہ تھا یہ کون شخص مجھے کرچیوں میں بانٹ گیا یہ آئنہ تو مرا آخری ...

مزید پڑھیے

اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا

اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا اب میرا انجام نہیں آنے والا حسن سے کام پڑا ہے آخری سانسوں میں اور وہ کسی کے کام نہیں آنے والا میری صدا پر وہ نزدیک تو آئے گا لیکن زیر دام نہیں آنے والا ایک جھلک سے پیاس کا روگ بڑھے گا اور اس سے مجھے آرام نہیں آنے والا عشق کے نام پہ تیرا رنگ نہ ...

مزید پڑھیے

ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں

ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں تو نہیں ہے اور تری دھڑکنیں مرے ساتھ ہیں تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دل وہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں ترے ساتھ گزرے حسین لمحوں کی شوخیاں وہی رنگ و بو وہی رونقیں مرے ساتھ ہیں مرے پاؤں میں ہیں زمین کی سبھی گردشیں سبھی آسمان کی ...

مزید پڑھیے

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا میں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کی وہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا اسے سمیٹتا میں جب بھی ایک نقطے میں وہ میرے دھیان میں تتلی اڑا دیا ...

مزید پڑھیے

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے دل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے سایۂ وہم و گماں چار طرف پھیلا ہے میں ابھی کرب و اذیت سے نکلتا کیسے میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے میری نظریں جو نہ پڑتیں تو وہاں پچھلی شب اک ستارا سا تری چھت سے نکلتا کیسے میں کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5362 سے 6203