قومی زبان

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی گلوں کی شاخ سے لٹکے ہوئے تھے خنجر بھی یہاں وہاں کے اندھیروں کا کیا کریں ماتم کہ اس سے بڑھ کے اندھیرے ہیں دل کے اندر بھی ابھی سے ہاتھ مہکنے لگے ہیں کیوں میرے ابھی تو دیکھا نہیں ہے بدن کو چھو کر بھی کسے تلاش کریں اب نگر نگر لوگو جواب دیتے ...

مزید پڑھیے

لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے

لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے محسوس ہو رہی ہے خود اپنی کمی مجھے دیکھو تم آج مجھ کو بجھاتے تو ہو مگر کل ڈھونڈھتی پھرے گی بہت روشنی مجھے طے کر رہا ہوں میں بھی یہ راہیں صلیب کی آواز اے حیات نہ دینا ابھی مجھے سوکھے شجر کو پھینک دوں کیسے نکال کر دیتا رہا ہے سایہ شجر جو کبھی ...

مزید پڑھیے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے گلوں نے بے رخی کی ہے تو کانٹوں نے سنبھالا ہے محبت میں خیال ساحل و منزل ہے نادانی جو ان راہوں میں لٹ جائے وہی تقدیر والا ہے جہاں بھر کر متاع لالہ و گل بخشنے والو ہمارے دل کا کانٹا بھی کبھی تم نے نکالا ہے کناروں سے مجھے اے ناخدا تم دور ...

مزید پڑھیے

مستحق وہ لذت غم کا نہیں

مستحق وہ لذت غم کا نہیں جس نے خود اپنا لہو چکھا نہیں اس شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میں جس کی شاخوں پر کوئی پتا نہیں کون دیتا ہے در دل پر صدا کہہ دو میں بھی اب یہاں رہتا نہیں بن رہے ہیں سطح دل پر دائرے تم نے تو پتھر کوئی پھینکا نہیں انگلیاں کانٹوں سے زخمی ہو گئیں ہاتھ پھولوں تک ...

مزید پڑھیے

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے کرم کرو کسی صحرا میں چھوڑ آؤ مجھے وہ جنس ہوں میں جسے بک کے مدتیں گزریں جو ہو سکے تو کہیں سے خرید لاؤ مجھے مچل رہی ہے نظر چھو کے دیکھیے اس کو سمٹ رہا ہے بدن ہاتھ مت لگاؤ مجھے کسی طرح ان اندھیروں کی عمر تو کم ہو جلانے والو ذرا دیر تک جلاؤ مجھے کسی پہ ...

مزید پڑھیے

میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہوگا

میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہوگا جب تلک تلاطم میں معجزہ نہیں ہوگا سب پرند شاخوں سے جاں بچا کے اڑتے ہیں وہ جو مر گیا شاید وہ اڑا نہیں ہوگا آسمان والے خود پھر تمہیں گرا دیں گے گر تمہارے شانوں پر حوصلہ نہیں ہوگا بس گزرنے والے کا اتنا دکھ تو ہے مجھ کو اب کبھی کہیں اس سے رابطہ ...

مزید پڑھیے

جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے

جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے سرخ لبادہ اوڑھ کے جانا پڑتا ہے تم مری سوچوں پر قبضہ رکھتے ہو تم سے مجھ کو عشق نبھانا پڑھتا ہے ہم جیسوں کو وحشت تب اپناتی ہے اک چوکھٹ پہ شیش جھکانا پڑتا ہے وہ جب پھول سے وجد میں جا ٹکراتی ہے پھر گلشن کو ہوش میں لانا پڑھتا ہے اس لڑکی کے ساجدؔ ساجدؔ ...

مزید پڑھیے

صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں

صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں حسین لوگ ترے گاؤں میں رہے ہی نہیں ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں تمام شہر نے مل جل کے کر لئے تقسیم یہ حادثات مرے یار جب ٹلے ہی ...

مزید پڑھیے

کمرے کی جب سے تیرگی بڑھتی چلی گئی

کمرے کی جب سے تیرگی بڑھتی چلی گئی زخموں سے اپنی دوستی بڑھتی چلی گئی چاروں طرف سے خود میں لگائی گئی تھی آگ چاروں طرف ہی روشنی بڑھتی چلی گئی میں جتنا تیرے جسم کو پڑھتا چلا گیا خود سے پھر اتنی آگہی بڑھتی چلی گئی ساجدؔ ہمارے گاؤں میں دریا کے باوجود کیا راز ہے جو تشنگی بڑھتی چلی ...

مزید پڑھیے

دریدہ دیکھ کر کپڑے ہمارے

دریدہ دیکھ کر کپڑے ہمارے اداسی نے لیے بوسے ہمارے ہمارا دل نہیں بس سر جھکا تھا ہمکتے رہ گئے سجدے ہمارے پھر اک برپا ہوئی صحرا میں مجلس تبرک میں بٹے کرتے ہمارے تو کیا سوجھی تھی ہم کو خود کشی کی صدا دینے لگے پنکھے ہمارے یقیناً وصل لازم ہو گیا تھا تھے دونوں جسم ہی پیاسے ہمارے

مزید پڑھیے
صفحہ 5354 سے 6203