قومی زبان

گونجتی وادی میں آواز ابھی باقی ہے

گونجتی وادی میں آواز ابھی باقی ہے تار ٹوٹے ہیں تو کیا ساز ابھی باقی ہے پھر زمیں کھینچ رہی ہے مجھے اپنی جانب میں رکوں کیسے کہ پرواز ابھی باقی ہے موت سے پہلے مری موت کو لکھنے والے میرے انجام کا آغاز ابھی باقی ہے تو ادھر ہے کہ نہیں اتنا بتا دے مجھ کو سارے پردے اٹھے پر راز ابھی ...

مزید پڑھیے

لو آفتاب نے سب ختم اختلاف کیا

لو آفتاب نے سب ختم اختلاف کیا دھواں دھواں تھے جو منظر سبھی کو صاف کیا شفق کا لال دوپٹا اوڑھا کے وادی کو وجود عشق کا سورج نے اعتراف کیا کسی خیال میں غرقاب گرم سانسوں نے دبی ہوئی کسی حسرت کا انکشاف کیا اک آبشار کی شفاف نرم ہلچل نے کمال کر دیا سنگ بدن شگاف کیا کہ بازگشت تو جاری ...

مزید پڑھیے

ضبط غم پر زوال کیوں آیا

ضبط غم پر زوال کیوں آیا شدتوں میں ابال کیوں آیا گل سے کھلواڑ کر رہی تھی ہوا دل کو تیرا خیال کیوں آیا عشق تو ہجر کی علامت ہے وصل کا پھر سوال کیوں آیا ایسا بدلی نے کیا کیا آخر سورج اتنا نڈھال کیوں آیا سونی آنکھوں میں کیا ملا تم کو جھیل جیسا خیال کیوں آیا عمر بھر آئینے پہ رکھی ...

مزید پڑھیے

جنوں میں دامن دل گرچہ تار تار ہوا

جنوں میں دامن دل گرچہ تار تار ہوا مگر یہ جشن سر کوچۂ بہار ہوا ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا سمیٹ لی ہیں محبت نے ساری پروازیں دل و دماغ میں کیسا یہ انتشار ہوا نہیں بجھایا ہواؤں نے پہلی بار چراغ یہ سانحہ تو مرے ساتھ بار بار ہوا کسی کے واسطے ...

مزید پڑھیے

جیت کی اور نہ ہار کی ضد ہے

جیت کی اور نہ ہار کی ضد ہے دل کو شاید قرار کی ضد ہے کوئی بھی تو نہیں تعاقب میں جانے کس سے فرار کی ضد ہے ہم سے کچھ کہہ رہے ہیں سناٹے پر ہمیں انتظار کی ضد ہے عشق چاہے کہ لب کو جام لکھے حسن کو انکسار کی ضد ہے بارہا ہم نے سنگسار کیا پر اسے اعتبار کی ضد ہے ایک انجام طے شدہ کے لیے پھر ...

مزید پڑھیے

لیجئے ہم سے با کمال لوگ بھی عام ہو گئے

لیجئے ہم سے با کمال لوگ بھی عام ہو گئے جن سے گریز تھا ہمیں ہم سے وہ کام ہو گئے آپ کی بد دعائے دل آخر اثر دکھا گئی ہم کو بھی عشق ہو گیا ہم بھی غلام ہو گئے چادر احتیاط آج سر سے ہوا جو لے اڑی زلف کے سارے پیچ و خم منظر عام ہو گئے باغ بدن میں ہر طرف کلیاں چٹک چٹک گئیں باد صبا چلی تو ہم ...

مزید پڑھیے

شام کے وقت چراغوں سی جلائی ہوئی میں

شام کے وقت چراغوں سی جلائی ہوئی میں گھپ اندھیروں کی منڈیروں پہ سجائی ہوئی میں دیکھنے والوں کی نظروں کو لگوں سادہ ورق تیری تحریر میں ہوں ایسے چھپائی ہوئی میں خاک کر کے مجھے صحرا میں اڑانے والے دیکھ رقصاں ہوں سر دشت اڑائی ہوئی میں کیا اندھیروں کی حفاظت کے لئے رکھی ہوں اپنی ...

مزید پڑھیے

اجنبی سا اک ستارہ ہوں میں سیاروں کے بیچ

اجنبی سا اک ستارہ ہوں میں سیاروں کے بیچ اک جدا کردار ہوں اپنے ہی کرداروں کے بیچ پھر رہی ہوں بے سبب پاگل ہوا سی جا بجا دھند میں لپٹے ہوئے خاموش کہساروں کے بیچ اس حصار خاک کو جب توڑ کر نکلوں گی میں ڈھونڈتے رہ جاؤگے تم مجھ کو دیواروں کے بیچ کچھ کڑے ٹکراؤ دے جاتی ہے اکثر روشنی جوں ...

مزید پڑھیے

رات کے پچھلے پہر جس نے جگایا کیا تھا

رات کے پچھلے پہر جس نے جگایا کیا تھا کوئی آسیب زدہ ہجر کا سایہ کیا تھا نہ تو ہم سمجھے نہ کی کوئی وضاحت دل نے جانے اپنا تھا کہ وہ شخص پرایا کیا تھا یہ تو سچ ہے کہ لبوں نے نہ کوئی جنبش کی پر نگاہوں نے جو پیغام سنایا کیا تھا یوں سمندر کا ہوا سے تو کوئی ربط نہ تھا لہر نے پھر بھی جو یہ ...

مزید پڑھیے

بھگو گئی گل احساس آج شبنم پھر

بھگو گئی گل احساس آج شبنم پھر بدن کے گرد لپٹنے لگا ہے ریشم پھر یہ کس خیال کے کندن سے سج گیا تن من بھرے ہیں کاسۂ ہستی میں کس نے نیلم پھر بہار بوندیں گھٹا خوش گوار پروائی مرے سنگار کے کیا آ گئے ہیں موسم پھر بتا رہی ہیں یہ سرگوشیاں سمندر کی کہ خشک ریت سے دریا کا ہوگا سنگم پھر کئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5341 سے 6203