بگولہ بن کے ناچتا ہوا یہ تن گزر گیا
بگولہ بن کے ناچتا ہوا یہ تن گزر گیا ہوا میں دیر تک اڑا غبار اور بکھر گیا ہماری مٹی جانے کون ذرہ ذرہ کر گیا بغیر شکل یہ وجود چاک پر بکھر گیا یہ روح حسرت وجود کی بقا کا نام ہے بدن نہ ہو سکا جو خواب روح میں ٹھہر گیا عجب سی کشمکش تمام عمر ساتھ ساتھ تھی رکھا جو روح کا بھرم تو جسم میرا ...