قومی زبان

ہجوم گریہ

ہمیں بھی رو لے ہجوم گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسم ہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیں جو آفتابوں کی بستیوں سے سراغ لائے تھے ان سویروں کا جن کو شبنم کے پہلے قطروں نے غسل بخشا سفید رنگوں سے نور معنی نکال لیتے تھے اور چاندی اجالتے تھے شفق پہ ٹھہرے سنہرے بادل سے زرد سونے کو ڈھالتے تھے خنک ...

مزید پڑھیے

نوحہ

وہی بادلوں کے برسنے کے دن تھے مگر وہ نہ برسے مبارک ہو شوریٰ کی صنعت گری کو مشقت سے بیجوں کو تیار کر کے اگائی تھی صحرا میں چوہوں کی کھیتی جو آہستہ آہستہ بڑھتے رہے پھر کھڑے ہو گئے اپنی دم کے سہارے کترنے لگے ایسے پیاسی زبانوں کے نوحے جو مشکوں کے اندر امانت پڑے تھے خباثت نے اگلے تھے ...

مزید پڑھیے

سفیرِ لیلیٰ-۳

سفیر لیلیٰ یہ کیا ہوا ہے شبوں کے چہرے بگڑ گئے ہیں دلوں کے دھاگے اکھڑ گئے ہیں شفیق آنسو نہیں بچے ہیں غموں کے لہجے بدل گئے ہیں تمہی بتاؤ کہ اس کھنڈر میں جہاں پہ مکڑی کی صنعتیں ہوں جہاں سمندر ہوں تیرگی کے سیاہ جالوں کے بادباں ہوں جہاں پیمبر خموش لیٹے ہوں باتیں کرتی ہوں مردہ ...

مزید پڑھیے

سفیر لیلیٰ-۴

حریم محمل میں آ گیا ہوں سلام لے لو سلام لے لو کہ میں تمہارا امین قاصد خجل مسافر عزا کی وادی سے لوٹ آیا میں لوٹ آیا مگر سراسیمہ اس طرح سے کہ پچھلے قدموں پلٹ کے دیکھا نہ گزرے رستوں کے فاصلوں کو جہاں پہ میرے نشان پا اب تھکے تھکے سے گرے پڑے تھے حریم محمل میں وہ سفیر نوید پرور جسے زمانے ...

مزید پڑھیے

بس نجات زندگی تو عشق روحانی میں ہے

بس نجات زندگی تو عشق روحانی میں ہے یہ سزائے موت سن کر جسم حیرانی میں ہے ریت پر پھیلا ہوا ہے خواب جیسا اک سراب خشک آنکھوں کا سکوں صحرا کے اس پانی میں ہے اضطرابی کیفیت ہی اس زمیں کا ہے نصیب ہر گھڑی گردش میں ہے ہر دم پریشانی میں ہے کچھ غبار آنکھوں تک آیا راز ہم پر تب کھلا قافلہ اب ...

مزید پڑھیے

پکارتے پکارتے صدا ہی اور ہو گئی

پکارتے پکارتے صدا ہی اور ہو گئی قبول ہوتے ہوتے ہر دعا ہی اور ہو گئی ذرا سا رک کے دو گھڑی چمن پہ کیا نگاہ کی بدل گیا مزاج گل ہوا ہی اور ہو گئی یہ کس کے نام کی تپش سے پور پور جل اٹھے ہتھیلیاں مہک گئیں حنا ہی اور ہو گئی خزاں نے اپنے نام کی ردا جو گل پہ ڈال دی چمن کا رنگ اڑ گیا صبا ہی ...

مزید پڑھیے

وہ ہی انداز دلبری ہے ابھی

وہ ہی انداز دلبری ہے ابھی اس کی باتوں میں دل کشی ہے ابھی کشتئ دل بہک نہ جائے کہیں موج در موج گم رہی ہے ابھی کسی طوفان کا اشارہ ہے یہ جو سفاک خامشی ہے ابھی راکھ سے اب بھی اٹھ رہا ہے دھواں یاد ماضی سلگ رہی ہے ابھی عشق میں سب تو حد سے پار ہوئے پر ہمیں احتیاط سی ہے ابھی عہد و پیماں ...

مزید پڑھیے

یہ کس مہم پر چلے تھے ہم جس میں راستے پر خطر نہ آئے

یہ کس مہم پر چلے تھے ہم جس میں راستے پر خطر نہ آئے ہمیں نوازا نہ وحشتوں نے ہمیں جنوں کے ہنر نہ آئے مجھے بہت تیز دھوپ درکار ہے محبت کے اس سفر میں کبھی کہیں سر پہ سایہ کرنے کوئی گھنیرا شجر نہ آئے اندھیری شب کا یہ خواب منظر مجھے اجالوں سے بھر رہا ہے تو رات اتنی طویل ہو جائے تا قیامت ...

مزید پڑھیے

بعد سورج کے بھی ہم کو زندگی اچھی لگی

بعد سورج کے بھی ہم کو زندگی اچھی لگی شب کی فطرت میں تھی جو اک بیکلی اچھی لگی پہلے پہلے کچھ ہراساں سے تھے ہم تنہائی سے چاند تارے آ گئے پھر خامشی اچھی لگی بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی رات بھر شبنم کے ہاتھوں بن سنور جانے کے بعد پھول کے چہرے ...

مزید پڑھیے

بن گیا تدبیر سے ہر راستہ تقدیر کا

بن گیا تدبیر سے ہر راستہ تقدیر کا اب نہیں کچھ خوف پیروں کو کسی زنجیر کا کر دیا خاموش شعلوں نے جلا کر ہر ورق لفظ پھر بھی چیختا اک رہ گیا تحریر کا خاک سرگرداں ہے ہر سو کچھ نہیں بدلا یہاں دیکھتی ہیں اب بھی راہیں راستہ رہ گیر کا ایک رخ پر تھیں بہاریں ایک رخ بے رنگ و نور اور میری سمت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5340 سے 6203