قومی زبان

باد صحرا کو رہ شہر پہ ڈالا کس نے

باد صحرا کو رہ شہر پہ ڈالا کس نے تار وحشت کو گریباں سے نکالا کس نے مختصر بات تھی، پھیلی کیوں صبا کی مانند درد مندوں کا فسانہ تھا، اچھالا کس نے بستیوں والے تو خود اوڑھ کے پتے، سوئے دل آوارہ تجھے رات سنبھالا کس نے آگ پھولوں کی طلب میں تھی، ہواؤں پہ رکی نذر جاں کس کی ہوئی، راہ سے ...

مزید پڑھیے

دن کا سمے ہے، چوک کنویں کا اور بانکوں کے جال

دن کا سمے ہے، چوک کنویں کا اور بانکوں کے جال ایسے میں ناری تو نے چلی پھر تیتری والی چال جامنوں والے دیس کے لڑکے، ٹیڑھے ان کے طور پنکھ ٹٹولیں طوطیوں کے وہ، پھر کر ہر ہر ڈال وہ شخص امر ہے، جو پیوے گا دو چاندوں کے نور اس کی آنکھیں سدا گلابی جو دیکھے اک لال شام کی ٹھنڈی رت نے بھرے ...

مزید پڑھیے

کسے کجاوے محملوں کے اور جاگا رات کا تارا بھی

کسے کجاوے محملوں کے اور جاگا رات کا تارا بھی چھوڑ دی بستی ناقوں نے خاموش ہوا نقارا بھی چاند سی آنکھیں کھیل رہی تھیں سرخ پہاڑ کی اوٹوں سے پورب اور سے تاک رہا تھا اٹھ کر ابر کا پارہ بھی قافلے گرد سفر میں ڈوبے، گھنٹیوں کی آواز گھٹی آخری اونٹ کی پشت پہ ڈالا رات نے سیاہ غرارہ ...

مزید پڑھیے

رو چلے چشم سے گریہ کی ریاضت کر کے

رو چلے چشم سے گریہ کی ریاضت کر کے آنکھیں بے نور ہیں یوسف کی زیارت کر کے دل کا احوال تو یہ ہے کہ یہ چپ چاپ فقیر لگ کے دیوار سے بیٹھا تجھے رخصت کر کے اتنا آساں نہیں پانی سے شبیہیں دھونا خود بھی روئے گا مصور یہ قیامت کر کے سرفرازی اسے بخشی ہے جہاں نے مطلق دار تک پہنچا اگر کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

ازل کے قصہ گو نے دل کی جو اتاری داستاں

ازل کے قصہ گو نے دل کی جو اتاری داستاں کہیں کہیں سے اس نے تو بہت سنواری داستاں ہوا سے جو سیربیں پرانے موسموں کی ہے سنا سنا کے تھک گئی مری تمہاری داستاں کسی کا سایہ رہ گیا گلی کے عین موڑ پر اسی حبیب سائے سے بنی ہماری داستاں مری جبیں پہ سانحات نے لکھی ہیں عرضیاں یہ عرضیاں ہیں ...

مزید پڑھیے

نام و نسب

اے مرا نام و نسب پوچھنے والے سن لے میرے اجداد کی قبروں کے پرانے کتبے جن کی تحریر مہ و سال کے فتنوں کی نقیب جن کی بوسیدہ سلیں سیم زدہ شور زدہ اور آسیب زمانے کہ رہے جن کا نصیب پشت در پشت بلا فصل وہ اجداد مرے اپنے آقاؤں کی منشا تھی مشیت ان کی گر وہ زندہ تھے تو زندوں میں وہ شامل کب ...

مزید پڑھیے

سفیر لیلی-۱

سفیر لیلیٰ یہی کھنڈر ہیں جہاں سے آغاز داستاں ہے ذرا سا بیٹھو تو میں سناؤں فصیل قریہ کے سرخ پتھر اور ان پہ اژدر نشان برجیں گواہ قریہ کی عظمتوں کی چہار جانب نخیل طوبیٰ اور اس میں بہتے فراواں چشمے بلند پیڑوں کے ٹھنڈے سائے تھے شاخ زیتوں اسی جگہ تھی یہی ستوں تھے جو دیکھتے ہو پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

لہار جانتا نہیں

ہمارے گاؤں کا لہار اب درانتیاں بنا کے بیچتا نہیں وہ جانتا ہے فصل کاٹنے کا وقت کٹ گیا سروں کو کاٹنے کے شغل میں وہ جانتا ہے بانجھ ہو گئی زمین جب سے لے گئے نقاب پوش گاؤں کے مویشیوں کو شہر میں جو برملا صدائیں دے کے خشک خون بیچتے ہیں بے یقین بستیوں کے درمیاں اداس دل خموش اور بے زباں ...

مزید پڑھیے

سرمہ ہو یا تارا

درد کی لذت سے ناواقف خوشبو سے مانوس نہ تھا میرے گھر کی مٹی سے وہ شخص بہت بیگانہ تھا تارے چنتے چنتے جس نے پھول نظر انداز کیے خواب کسے معلوم نہیں ہیں لمس کسے محبوب نہیں لیکن جو تعبیر نہ جانے اس کو اونگھ بھی لینا عیب رات کی قیمت ہجر میں سمجھی جس نے آنسو نور بنے زخم سے اٹھنے والی ...

مزید پڑھیے

سفیرِ لیلیٰ-۲

نظر اٹھاؤ سفیر لیلیٰ برے تماشوں کا شہر دیکھو یہ میرا قریہ یہ وحشتوں کا امین قریہ تمہیں دکھاؤں یہ صحن مسجد تھا یاں پہ آیت فروش بیٹھے دعائیں خلقت کو بیچتے تھے یہاں عدالت تھی اور قاضی امان دیتے تھے رہزنوں کو اور اس جگہ پر وہ خانقاہیں تھیں آب و آتش کی منڈیاں تھیں جہاں پہ امرد پرست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5339 سے 6203