گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا
گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا یاد انہیں بھلانے کا کوئی ڈھب نہیں آتا ضبط گریہ کی تلقیں ختم کر بس اے ہمدم بات بات پر رونا بے سبب نہیں آتا کس پہ جان دیتا ہوں راز ہی میں رہنے دے نام اس دل آرا کا تا بہ لب نہیں آتا کیا کہوں اسے پہلے دیکھتا تھا کس ڈھب سے جو حسیں نظر مجھ کو آہ ...