قومی زبان

گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا

گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا یاد انہیں بھلانے کا کوئی ڈھب نہیں آتا ضبط گریہ کی تلقیں ختم کر بس اے ہمدم بات بات پر رونا بے سبب نہیں آتا کس پہ جان دیتا ہوں راز ہی میں رہنے دے نام اس دل آرا کا تا بہ لب نہیں آتا کیا کہوں اسے پہلے دیکھتا تھا کس ڈھب سے جو حسیں نظر مجھ کو آہ ...

مزید پڑھیے

اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا

اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا لذت فنا چکھی زیست کا مزا پایا منزلوں کی سختی کا غم نہیں خوشی یہ ہے کس ہجوم حسرت میں ہم نے راستہ پایا قدر اس کی پہچانیں آپ یا نہ پہچانیں اپنے دل کو ہم نے تو حسب مدعا پایا بے خودی کی حسرت کیا بے سبب میں کرتا تھا آ کے ہوش میں سمجھا بے خودی میں ...

مزید پڑھیے

حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا

حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا ہے حقیقت ایسی ہی یا ہے یہ گماں اپنا فاش ہم کریں کیونکر راز مدعا یابی گم حصول مقصد میں حاصل بیاں اپنا کارساز ہے کتنی دید و باز دید اپنی مل گیا صلہ ہم کو بعد امتحاں اپنا لطف رنجش بے جا آج دونوں پاتے ہیں مسکرا رہے ہیں وہ دل ہے شادماں اپنا ان کی دل ...

مزید پڑھیے

پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا

پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا ایک مست ناز کو دل بے مدعا دیا اب کیا گلہ کروں عدم التفات کا میری نگاہ یاس نے سب کچھ جتا دیا بڑھتے ہوئے شعور میں گم ہو رہا ہوں میں احساس حسن آپ نے اتنا بڑھا دیا دیکھی نہ جب تجلیٔ تکرار آشنا بے رنگیوں کا رنگ خودی نے جما دیا ہے شاد بے دلی پہ تہی ...

مزید پڑھیے

جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا

جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا بیگانہ خو حسیں کو بیگانہ وار دیکھا پیہم تجلیوں کی مجھ میں سکت کہاں تھی نظریں چرا چرا کر سوئے نگار دیکھا آج اپنی بے خودی کو عرفاں کی روشنی میں اس ماہ سیم تن کا آئینہ دار دیکھا تیری عنایتوں سے انجام بیں نظر میں آغاز عشق ہی میں انجام کار ...

مزید پڑھیے

عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا

عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا سعیٔ ناکام کے غم سے مجھے کچھ کام نہ تھا طور کے لطف خصوصی کی قسم پہلے بھی میرے دل پر اثر جلوہ گہ عام نہ تھا دوست کے حسن توجہ سے نہیں شاداب تک نگہ غم زدہ میں کیا کوئی پیغام نہ تھا حسرت خوں شدہ ہر آن نئی شان میں تھی رنگ جو صبح کو دیکھا وہ سر شام نہ ...

مزید پڑھیے

حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں

حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں سامنے ہو کر وہ چھپتے ہیں تڑپ جاتا ہوں میں عشرت جلوہ بھی ہو جائے جہاں حیرت زدہ اے خیال دوست اس منزل پہ گھبراتا ہوں میں دیکھتا ہوں اپنے غم خواروں کی جب بے دردیاں حسن بے پردہ کی رہ رہ کر قسم کھاتا ہوں میں انتظار اس کا ہے کتنا جاں گسل کیونکر ...

مزید پڑھیے

نیا مے کدے میں نظام آ گیا

نیا مے کدے میں نظام آ گیا اٹھیں بندشیں اذن عام آ گیا نظر میں وہ کیف دوام آ گیا کہ گویا کسی کا پیام آ گیا محبت میں وہ بھی مقام آ گیا کہ مژگاں پہ خوں لب پہ نام آ گیا سر راہ کانٹے بچھاتا ہے شوق جنوں کو بھی کچھ اہتمام آ گیا نہ الزام ان پر نہ اغیار پر یہ دل آپ ہی زیر دام آ گیا بدل ہی ...

مزید پڑھیے

ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میں

ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میں جل رہی ہیں یاد کی شمعیں بجھا جاتا ہوں میں آ گئی آخر غم دل وہ بھی منزل آ گئی مجھ کو سمجھاتے تھے جو اب ان کو سمجھاتا ہوں میں زندگی آزادہ رو بحر حقیقت بے کنار موج آتی ہے تو بڑھتا ہی چلا جاتا ہوں میں بزم فکر و ہوش ہو یا محفل عیش و نشاط ہر جگہ ...

مزید پڑھیے

دبی آواز میں کرتی تھی کل شکوے زمیں مجھ سے

دبی آواز میں کرتی تھی کل شکوے زمیں مجھ سے کہ ظلم و جور کا یہ بوجھ اٹھ سکتا نہیں مجھ سے اگر یہ کشمکش باقی رہی جہل و تمدن کی زمانہ چھین لے گا دولت علم و یقیں مجھ سے تمہیں سے کیا چھپانا ہے تمہاری ہی تو باتیں ہیں جو کہتی ہے تمنا کی نگاہ واپسیں مجھ سے نگاہیں چار ہوتے ہی بھلا کیا حشر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5332 سے 6203