تین مختصر نظمیں
۱ اس طرح لب ہلے کہ راتوں نے اپنے سینے کے راز کھول دئے ۲ منجمد قدموں کو پگھلاتا ہے کون راستہ بن کر چلا جاتا ہے کون ۳ تیرے لبوں پر میرے دل کی خواہش ہے آ جائے نہ کوئی تباہی دیکھ کے چل
۱ اس طرح لب ہلے کہ راتوں نے اپنے سینے کے راز کھول دئے ۲ منجمد قدموں کو پگھلاتا ہے کون راستہ بن کر چلا جاتا ہے کون ۳ تیرے لبوں پر میرے دل کی خواہش ہے آ جائے نہ کوئی تباہی دیکھ کے چل
جس محل میں میں رہنا چاہتا ہوں اس پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور اس کے اندر ایک شخص رہتا ہے جو خود کو بادشاہ کہتا ہے
غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا احساس عشق حسن کے سانچے میں ڈھل گیا ساتھ ان کے لے رہا ہوں میں گل گشت کے مزے یہ خواب ہی سہی مرا جی تو بہل گیا مجبور عشق چشم فسوں ساز سے ہوں میں جادو مجھی پہ دوست کا چلنا تھا چل گیا میں انتظار عید میں تھا عید آ گئی ارمان دید دامن عشرت میں پل گیا ہے ...
لائے گی رنگ آپ کی یہ دل لگی کچھ اور بڑھ کر رہے گی اب مری آشفتگی کچھ اور مجھ پر کھلیں گے اور ابھی راز ہائے عشق دل کو ملے گی لذت بے چارگی کچھ اور میری حیات عشق ہے تمہید انبساط جلوے دکھائے گی مجھے خود رفتگی کچھ اور ان کی طرف ہے چشم سخن گو دم اخیر اس کے سوا نہیں اثر زندگی کچھ ...
برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھا حیرت اثر ایسا مرا عالم نہ ہوا تھا ان شوخ نگاہوں نے تڑپ اور بڑھا دی اللہ ابھی درد جگر کم نہ ہوا تھا اب بھی مجھے خودداریٔ جاناں میں نہیں شک پہلے بھی مرا دل متوہم نہ ہوا تھا اے پیر مغاں اس کی بقا میں مجھے شک ہے واقف اثر جام سے کیا جم نہ ہوا تھا وہ ...
ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہے یہ شان خدا شاہد غارت گر ایماں ہے جو بات بھی ہے پیاری جو چال بھی ہے اچھی آن اس کی نہیں مخفی شان اس کی نمایاں ہے ہم راہ چلوں اس کے کچھ بات کروں اس سے مدت سے یہ حسرت ہے مدت سے یہ ارماں ہے وہ مجھ کو دکھاتے ہیں ہر آن نیا جلوہ میرے لیے ہر جلوہ سرمایۂ ...
راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا غیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میرا واسطے کی خوبی نے سہل منزلیں کر دیں حسن عشق کا رہبر عشق رہنما میرا کر دیا مجھے بے خود ان کی بے نیازی نے کہہ رہا ہوں خود ان سے دل سنبھالنا میرا ہائے خوف بدنامی وائے فکر ناکامی بے وفا کے ہاتھوں میں حاصل وفا میرا لطف ...
جس کے ایماں پر بت کافر ہنسے اللہ اللہ وہ ہنسے کیونکر ہنسے حسن ماہ و ماہوش سحر آفریں ہائے جادوگر پہ جادوگر ہنسے قلقل مینا دکھائے جب اثر میں ہنسوں ساقی ہنسے ساغر ہنسے کیونکر آتی ہے ہنسی کس کو خبر ان پہ میں حیراں ہوں جو مجھ پر ہنسے اک پتے کی بات کہتا ہوں سنو کوئی ہنس کر روئے یا ...
فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا درد دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیا چٹکیاں کون یہ رہ رہ کے لئے جاتا ہے میرے دل میں تو مری جاں کوئی آیا نہ گیا لطف یوں رنجش بے جا کے لئے پہروں تک بے سبب روٹھنے والے کو منایا نہ گیا خواب پر کیف کا منظر بھی نشاط آور تھا دوست کو اس لئے کچھ دیر جگایا ...
اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہے مرنے کی بھی حسرت ہے جینے کا کا بھی ارماں ہے ساحل سے نہیں لگتی غرقاب نہیں ہوتی کشتی ہے تھپیڑوں میں یہ بھی کوئی طوفاں ہے میں کیا مری الفت کیا تو اور مجھے پوچھے بس اے ستم آرا بس حسرت ہے نہ ارماں ہے یہ موج تبسم کیا ظالم اسے دھو دے گی جو رنگ پشیمانی ...