قومی زبان

ترے دیار میں کوئی غم آشنا تو نہیں

ترے دیار میں کوئی غم آشنا تو نہیں مگر وہاں کے سوا اور راستا تو نہیں سمٹ کے آ گئی دنیا قریب مے خانہ کوئی بتاؤ یہی خانۂ خدا تو نہیں لبوں پر آج تبسم کی موج مچلی ہے کوئی مجھے کسی گوشے سے دیکھتا تو نہیں بنا لیں راہ اسی خار زار سے ہو کر جنون شوق کا یہ فیصلہ برا تو نہیں سبب ہو کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

ہے وہی معرکۂ نیکی و شر میرے بعد

ہے وہی معرکۂ نیکی و شر میرے بعد تھم نہ جائیں کہیں یاران سفر میرے بعد کم ہیں ایسے جو کریں عرض ہنر میرے بعد آج غم ناک سے ہیں اہل نظر میرے بعد چند ساعت کے لئے رک بھی گیا رو بھی لیا کارواں پھر بھی ہے سرگرم سفر میرے بعد جذب تھیں جس میں مرے خون وفا کی چھینٹیں بن گیا سجدہ گہہ خلق وہ در ...

مزید پڑھیے

آنکھ کچھ بے سبب ہی نم تو نہیں

آنکھ کچھ بے سبب ہی نم تو نہیں یہ کہیں آپ کا کرم تو نہیں ہم نے مانا کہ روشنی کم ہے پھر بھی یہ صبح شام غم تو نہیں عشق میں بندشیں ہزار سہی بندش دانہ و درم تو نہیں تھا کہاں عشق کو سلیقۂ غم وہ نظر مائل کرم تو نہیں مونس شب رفیق تنہائی درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں وہ کہاں اور کہاں ستم ...

مزید پڑھیے

ہے خموش آنسوؤں میں بھی نشاط کامرانی

ہے خموش آنسوؤں میں بھی نشاط کامرانی کوئی سن رہا ہے شاید مری دکھ بھری کہانی یہی تھرتھراتے آنسو یہی نیچی نیچی نظریں یہی ان کی بھی نشانی یہی اپنی بھی نشانی یہ نظام بزم ساقی کہیں رہ سکے گا باقی کہ خوشی تو چند لمحے غم و درد جاودانی ہیں وجود شے میں پنہاں ازل و ابد کے رشتے یہاں کچھ ...

مزید پڑھیے

گو وسیع صحرا میں اک حقیر ذرہ ہوں

گو وسیع صحرا میں اک حقیر ذرہ ہوں رہروی میں صرصر ہوں رقص میں بگولا ہوں ہر سمدر منتھن سے زہر ہی نکلتا ہے میں یہ زہر جیون کا ہنس کے پی بھی سکتا ہوں یہ بھری پری دھرتی اک اننت میلا ہے اور سارے میلے میں جیسے میں اکیلا ہوں یوں تو پھول پھبتا ہے ہر حسین جوڑے پر جس نے چن لیا مجھ کو میں اسی ...

مزید پڑھیے

شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں

شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں ہاں مگر اشک جب امڈے تھے چھپائے تو نہیں تیری محفل کے بھی آداب کہ دل ڈرتا ہے میری آنکھوں نے در اشک لٹائے تو نہیں چھان لی خاک بیابانوں کی ویرانوں کی پھر بھی انداز جنوں عقل نے پائے تو نہیں لاکھ پر وحشت و پر ہول سہی شام فراق ہم نے گھبرا کے دیے ...

مزید پڑھیے

جنوں سے راہ خرد میں بھی کام لینا تھا

جنوں سے راہ خرد میں بھی کام لینا تھا ہر ایک خار سے اذن خرام لینا تھا فراز دار پہ دامن کسی کا تھام لیا جنون شوق کو بھی انتقام لینا تھا ہزار بار نتائج سے ہو کے بے پروا اسی کا نام لیا جس کا نام لینا تھا علاج تشنہ لبی سہل تھا مگر ساقی جو دست غیر میں ہے کب وہ جام لینا تھا جنوں کی راہ ...

مزید پڑھیے

ہجوم عیش و-طرب میں بھی ہے بشر تنہا

ہجوم عیش و-طرب میں بھی ہے بشر تنہا نفس نفس ہے مہاجر نظر نظر تنہا یہ میرا عکس ہے آئینے میں کہ دشمن ہے اداس تشنۂ ستم دیدہ بے خبر تنہا یہ قتل گاہ بھی ہے بال پن کا آنگن بھی بھٹک رہی ہے جہاں چشم معتبر تنہا برا نہ مان مرے ہم سفر خدا کے لئے چلوں گا میں بھی اسی راہ پر مگر تنہا نہ جانے ...

مزید پڑھیے

جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں

جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں مگر جن کو سمجھنا چاہیئے تھا کم سمجھتے ہیں ذرا میرے جنوں کی کاوش تعمیر تو دیکھیں جو بزم زندگی کو درہم و برہم سمجھتے ہیں ان آنکھوں میں نہیں نشتر خود اپنے دل میں پنہاں ہے اب اتنی بات تو کچھ ہم بھی اے ہمدم سمجھتے ہیں یہ ان کی مہربانی ہے یہ ان ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے

آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے نیچی نگاہ اٹھی فتنے نئے جگا کے میں راگ چھیڑتا ہوں ایمائے حسن پا کے دیکھو تو میری جانب اک بار مسکرا کے دنیائے مصلحت کے یہ بند کیا تھمیں گے بڑھ جائے گا زمانہ طوفاں نئے اٹھا کے جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5333 سے 6203