ترے دیار میں کوئی غم آشنا تو نہیں
ترے دیار میں کوئی غم آشنا تو نہیں مگر وہاں کے سوا اور راستا تو نہیں سمٹ کے آ گئی دنیا قریب مے خانہ کوئی بتاؤ یہی خانۂ خدا تو نہیں لبوں پر آج تبسم کی موج مچلی ہے کوئی مجھے کسی گوشے سے دیکھتا تو نہیں بنا لیں راہ اسی خار زار سے ہو کر جنون شوق کا یہ فیصلہ برا تو نہیں سبب ہو کچھ بھی ...