چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دے
چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دے دل آوارہ کو پیغام گرفتاری دے عشق ہے سادہ و معصوم اسے اپنی طرح جوہر تیغ ادا خنجر عیاری دے جو دکھے دل ہیں انہیں دولت درماں ہو عطا درد کے ہاتھ میں مت کاسۂ ناداری دے کتنی فرسودہ ہے یہ جرم و سزا کی دنیا سرکشی دل کو نیا ذوق گنہ گاری دے شاخ گل کب سے ہے ...