قومی زبان

چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دے

چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دے دل آوارہ کو پیغام گرفتاری دے عشق ہے سادہ و معصوم اسے اپنی طرح جوہر تیغ ادا خنجر عیاری دے جو دکھے دل ہیں انہیں دولت درماں ہو عطا درد کے ہاتھ میں مت کاسۂ ناداری دے کتنی فرسودہ ہے یہ جرم و سزا کی دنیا سرکشی دل کو نیا ذوق گنہ گاری دے شاخ گل کب سے ہے ...

مزید پڑھیے

ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئے

ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئے ہزاروں نامہ ہائے شوق اہل دل کے کام آئے نہ جانے کتنی نظریں اس دل وحشی پہ پڑتی ہیں ہر اک کو فکر ہے اس کی یہ شاہیں زیر دام آئے اسی امید میں بیتابی جاں بڑھتی جاتی ہے سکون دل جہاں ممکن ہو شاید وہ مقام آئے ہماری تشنگی بجھتی نہیں شبنم کے قطروں ...

مزید پڑھیے

درد ہر رنگ سے اطوار دعا مانگے ہے

درد ہر رنگ سے اطوار دعا مانگے ہے لحظہ لحظہ مرے زخموں کا پتا مانگے ہے اتنی آنکھیں ہیں مگر دیکھتی کیا رہتی ہیں یہ تماشا تو خدا جانیے کیا مانگے ہے سب تو ہشیار ہوئے تم بھی سیانے بن جاؤ دیکھو ہر شخص وفاؤں کا صلہ مانگے ہے کان سنتے تو ہیں لیکن نہ سمجھنے کے لئے کوئی سمجھا بھی تو مفہوم ...

مزید پڑھیے

کسے بتائیں کہ کیا غم رہا ہے آنکھوں میں

کسے بتائیں کہ کیا غم رہا ہے آنکھوں میں ہر ایک سلسلہ درہم رہا ہے آنکھوں میں یہاں نہ ساون و بھادوں نہ جیٹھ ہے نہ اساڑھ بس ایک خون کا موسم رہا ہے آنکھوں میں لہو کی آنکھ تھی وہ یا گلو بریدہ تھا یہ کیسے خوف کا عالم رہا ہے آنکھوں میں کبھی ہے درد کا چہرہ کبھی سکون نظر یہ اہتمام تو پیہم ...

مزید پڑھیے

کالا سمندر

صاف و شفاف پانی کا دھارا قطب شمالی سے قطب جنوبی تک ایک لکیر سی بنائے ہوئے ہے اس صاف و شفاف دھارے کو سیاہ سمندروں نے گھیر لیا ہے سیاہ سمندر نہ تو طوفان اٹھا سکتا ہے نہ ہی کسی کو ڈبو سکتا ہے وہ تو صرف خوف زدہ کر سکتا ہے

مزید پڑھیے

تم سے

ایک آنچل ہے جو پھیلا ہے افق تا بہ افق ایک سایہ ہے جو چھایا ہے دل وحشی پر نغمگی ایک طرح پھوٹتی رہتی ہے کہیں خامشی رنگ لئے گھومتی رہتی ہے کہیں ڈھونڈھتا رہتا ہوں لہجوں میں کبھی باتوں میں ڈھونڈھتا رہتا ہوں خوشبو میں کبھی چاندنی راتوں میں تجھے تجھ کو پاؤں تو بہت دل کو سکوں آئے گا تجھ ...

مزید پڑھیے

ایک پلٹتا ہوا منظر

جب جنازہ جا رہا تھا رات کی خاموش باہوں کی طرف اور زمیں کا ایک حصہ اپنا منہ کھولے ہوئے تھا منتظر میں بھی تھا پیچھے تمہارے ساتھ سب کے اور جدا سب سے میں اکیلا لوٹ کر آیا تھا گھر اب بھی اکثر لوٹتا ہوں میں اکیلا ساتھ سب کے اور جدا سب سے

مزید پڑھیے

کثافت

یہ کثافتوں کی جو بہتات ہے اس سے خود کو ہم کہاں تک بچائیں نہ تو سایۂ گنبد نہ کھلے اجلے صحن ایک بے رنگ سی بے روح فضا چھائی ہے صوت و آہنگ نہیں نوک سناں اٹھے ہیں اپنی آواز کو میں خود بھی نہیں سن سکتا

مزید پڑھیے

ایک رات ایک صبح

رات پھر رگوں میں جیسے چیونٹیاں سی بھر گئیں آنکھیں سرخ ہو گئیں ہاتھ پھر ٹٹولنے لگا گولیوں کی نیند ہاتھ پھر ٹٹولنے لگا کمرے کی کھڑکی سے پرے ننھے ننھے پانی کے قطرے ہوا میں گرتے جائیں تب دل کی اک چنگاری شعلہ بن جاتی ہے اک چہرہ پھر سے دھلتا ہے اک صورت پھر یاد آتی ہے

مزید پڑھیے

تازہ منظر

باہر بارش شروع ہو چکی ہے میں نے کمرے کی کھڑکی بند کر لی ہے بارش کے پانی نے کھڑکی کے شیشے کی دھول صاف کر دی ہے اب باہر کا منظر صاف نظر آتا ہے لیکن بارش کی وجہ سے ابھی چیزیں دھندلی ہیں بارش تھمے گی تو کھڑکی کھلے گی اور ایک تازہ منظر سامنے ہوگا

مزید پڑھیے
صفحہ 5330 سے 6203