قومی زبان

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا اہل نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ اے لا الٰہ کے وارث ...

مزید پڑھیے

لفظوں کہ وسیلے سے بیاں ہونے سے پہلے

لفظوں کہ وسیلے سے بیاں ہونے سے پہلے آسان تھا یہ کام گراں ہونے سے پہلے تخلیق نے چھینا ہے مرا حسن بھی مجھ سے اک راز تھا میں میرے عیاں ہونے سے پہلے کس طرح کی بینائی تھی ان آنکھوں میں جانے کچھ بھی نہ دکھا جن کو دھواں ہونے سے پہلے سوچا تو بہت پر کوئی معنی نہیں نکلے کیا میری نہیں تھی ...

مزید پڑھیے

ہے کفر کی آغوش میں ایمان ہمارا

ہے کفر کی آغوش میں ایمان ہمارا دنیا نے بہت کر دیا نقصان ہمارا کس طرح سلجھ پائے گا بحران ہمارا کل تیس سپاروں کا ہے قرآن ہمارا صیاد انہیں قید کے آداب سکھا دے بازار نہ ہو جائے یہ زندان ہمارا غالبؔ کی ہوئی جس سے بہت دیر لڑائی یاں دوست ہوا ہے وہی رضوان ہمارا کیا فرق پڑے گا جو نکل ...

مزید پڑھیے

وہ مرے شانہ بہ شانہ بھی تو ہو سکتا ہے

وہ مرے شانہ بہ شانہ بھی تو ہو سکتا ہے یہ سفر میرا سہانا بھی تو ہو سکتا ہے یہ ضروری تو نہیں قصد سفر منزل ہو مدعا خاک اڑانا بھی تو ہو سکتا ہے اتنی شدت سے نہ کر یاد مرے دل اس کو کہ ابھی اس کو بھلانا بھی تو ہو سکتا ہے جنگ میں سب کہاں شمشیر زنی کرتے ہیں کام لاشوں کو اٹھانا بھی تو ہو ...

مزید پڑھیے

اسی لیے تو نہیں کٹتی رات آدمی کی

اسی لیے تو نہیں کٹتی رات آدمی کی خدا کی ذات سے مشکل ہے ذات آدمی کی نئے خیال کی باقی کہیں جگہ نہ رہے وسیع اتنی نہ ہو کائنات آدمی کی خدا کا بھی کوئی شاید سراغ مل جائے سمجھ لی جائے اگر نفسیات آدمی کی خدا نے بیچ میں ایسا فساد برپا کیا ادھوری رہ گئی دنیا سے بات آدمی کی المیہ صرف یہی ...

مزید پڑھیے

وہ جز کہانی کا ہم تک پہنچ نہ پایا ہی ہو

وہ جز کہانی کا ہم تک پہنچ نہ پایا ہی ہو خدا نے پہلے بھی آدم سے کچھ بنایا ہی ہو اتر نہ پایا ہو وہ جسم و روح میں اک ساتھ تلاش کرنے وہ حالانکہ مجھ کو آیا ہی ہو لحاظ جسم رکھے روح کس لیے آخر کہ جسم جس نے فقط روح کو ستایا ہی ہو بدل گئے ہوں مفاہیم آنسوؤں کہ مرے کسی سے اس نے مرا ترجمہ ...

مزید پڑھیے

روح و بدن کی ناہمواری بڑھتی جاتی ہے

روح و بدن کی ناہمواری بڑھتی جاتی ہے دنیا میں آ کر دشواری بڑھتی جاتی ہے وقت سے صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ نسل آدم کی مکاری بڑھتی جاتی ہے جھگڑا کم نہیں ہوتا ہے کفر و اسلام کے بیچ اللہ اور ابلیس کی یاری بڑھتی جاتی ہے جتنا زیادہ بڑھتا ہے باہر تعمیری کام اندر اتنی ہی مسماری ...

مزید پڑھیے

بکھرے پڑے تھے ہم ہمیں یکجا نہ کر سکا

بکھرے پڑے تھے ہم ہمیں یکجا نہ کر سکا کیسا خدا تھا کوئی کرشمہ نہ کر سکا ٹوٹا تھا ایک خواب لڑکپن میں اس کے بعد تا عمر میں کوئی بھی تمنا نہ کر سکا اے آسمان تف ہے تری وسعتوں پہ تف اک خطہ اس زمین پہ سایہ نہ کر سکا تو بھی تو میرے رنگ میں آیا نہ عمر بھر میں بھی تو اپنے آپ کو تجھ سا نہ کر ...

مزید پڑھیے

مجھ سے تھوڑا سا بھی بیزار نہیں ہو سکتی

مجھ سے تھوڑا سا بھی بیزار نہیں ہو سکتی زندگی میری طرف دار نہیں ہو سکتی کب تلک اور چمکنا ہے ستاروں کو وہاں کیا یہاں پر کبھی بوچھار نہیں ہو سکتی دین کو غیب کی زنجیر سے جکڑے رہنا کیونکہ دنیا تو گرفتار نہیں ہو سکتی نئے سیاروں کے ملنے پہ خوشی ہوتی ہے یہ زمیں تو مرا گھر بار نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

انجمن میں جو مری اتنی ضیا ہے صاحب

انجمن میں جو مری اتنی ضیا ہے صاحب خون دل میرے چراغوں کی غذا ہے صاحب بت شکن نکلا وہی سمجھا تھا جس کو بت گر جس میں رہتا تھا وہی توڑ گیا ہے صاحب آنکھ سے آنسو چرا لے گیا لیکن وہ شخص بے گہر سیپ یہیں چھوڑ گیا ہے صاحب مجھ کو جنت کے نظارے بھی نہیں جچتے ہیں شہر جاناں ہی تصور میں بسا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5296 سے 6203