اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا اہل نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ اے لا الٰہ کے وارث ...