قومی زبان

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی دارا ...

مزید پڑھیے

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلۂ محبت کے وہ خار و خس کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ چمن نہ سیر گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک ترا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے ...

مزید پڑھیے

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہو وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں دم طوف کرمک شمع نے یہ ...

مزید پڑھیے

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبی خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ ...

مزید پڑھیے

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد مری جفا طلبی کو ...

مزید پڑھیے

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں کہ شاہیں کے لیے ...

مزید پڑھیے

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا سوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب ...

مزید پڑھیے

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے مدام گوش بہ دل رہ یہ ساز ہے ایسا جو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے کوئی یہ ...

مزید پڑھیے

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی گستاخ ہے کرتا ہے فطرت کی حنا بندی خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی رومی ہے نہ شامی ہے کاشی نہ سمرقندی سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی

مزید پڑھیے

دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی دل ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا کہ پیدائی تری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5295 سے 6203