قومی زبان

غزل کی اصلاح

مولانا حالی ؔ کے پاس ان کے ایک ملنے والے غزل لکھ کر لائے اور برائے اصلاح پیش کی۔ غزل میں کوئی بھی مصرعہ عیب سے خالی نہ تھا ۔ مولانا حالی نے تمام غزل پڑھنے کے بعد بے ساختہ فرمایا: ’’بھئی غزل خوب ہے، اس میں تو کہیں انگلی رکھنے کو بھی جگہ نہیں۔‘‘

مزید پڑھیے

مجذوب کا رد عمل اور مولوی کی مسکراہٹ

مولانا حالیؔ کے مقامی دوستوں میں مولوی وحیدالدین سلیم(لٹریری اسسٹنٹ سرسید احمد خاں) بھی تھے ۔جب یہ پانی پت میں ہوتے تو روزانہ مولانا حالیؔ کے پاس جاکر گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے ۔ ایک روز صبح ہی صبح پہنچے۔ مولانا نے رات کو کوئی غزل کہی تھی ۔ وہ ان کو سنائی ۔ سلیم سن کر پھڑک اٹھے اور ...

مزید پڑھیے

ہالی موالی کا مولوی ہونا

ایک مرتبہ مولانا حالیؔ سہارنپور تشریف لے گئے اور وہاں ایک معزز رئیس کے پاس ٹھہرے جو بڑے زمیندار بھی تھے۔ گرمی کے دن تھے اور مولانا کمرے میں لیٹے ہوئے تھے ۔ اسی وقت اتفاق سے ایک کسان آگیا۔ رئیس صاحب نے اس سے کہا کہ ’’یہ بزرگ جو آرام کررہے ہیں ان کو پنکھا جھل ‘‘ وہ بے چارہ پنکھا ...

مزید پڑھیے

شادی کے بعد ۔۔

غالباً1909ء کی بات ہے کہ مولوی محمد یحییٰ تنہا وکیل میرٹھ نے مولانا حالی ؔ کو اپنی شادی میں پانی پت بلایا ۔ شادی کے بعد مولانا حالیؔ اور مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی اور بعض دوسرے بزرگ بیٹھے آپس میں گفتگو کررہے تھے کہ مولانا محمد اسماعیل میرٹھی نے مسکراتے ہوئے مولوی محمد یحییٰ ...

مزید پڑھیے

بات ایسی سنا گیا کوئی

بات ایسی سنا گیا کوئی ہنستے ہنستے رلا گیا کوئی جیسے دنیا ہی لٹ گئی اپنی دل کے مسکن سے کیا گیا کوئی آنکھوں آنکھوں میں کچھ خموشی میں حال دل کا سنا گیا کوئی کیا ہی سستا کھلونا تھا یہ دل کھیلا توڑا چلا گیا کوئی سارے نظارے ہو گئے اوجھل یوں نظر میں سما گیا کوئی میرے شعروں کی ...

مزید پڑھیے

گرتے رہتے ہیں پھر سنبھلتے ہیں

گرتے رہتے ہیں پھر سنبھلتے ہیں پھر اسی راستے پہ چلتے ہیں جلتے ہیں آگ میں بدن لیکن دل فقط عشق ہی میں جلتے ہیں ایک مدت سے دل کے مندر میں کچھ امیدوں کے دیپ جلتے ہیں رزق دینا اسی کی قدرت ہے پتھروں میں بھی کیڑے پلتے ہیں موم کی طرح دل بھی پتھر کے وقت کی دھوپ میں پگھلتے ہیں صرف حالات ...

مزید پڑھیے

بے بسوں پہ یتیموں پہ ہنستی رہی

بے بسوں پہ یتیموں پہ ہنستی رہی فقرے بے کس پہ دنیا یہ کستی رہی کچھ بھی دنیا میں اس کا تو اپنا نہیں پھر بھی کیوں جان دنیا میں پھنستی رہی چاہی جو نعمتیں تم وہ کھاتے رہے بوڑھی ماں دیکھ کر ہی ترستی رہی میں بلندی کی پرواز کرتا رہا جو رہی میری منزل سو پستی رہی شکر ہر حال میں کیوں نہ ...

مزید پڑھیے

لکیروں میں کہیں اجداد کا پیسہ نہیں ہوتا

لکیروں میں کہیں اجداد کا پیسہ نہیں ہوتا غریبوں کا نصیبہ ہاتھ پہ لکھا نہیں ہوتا یہ اہل زر غریبوں کو کبھی جینے نہیں دیتے اگرچہ اس نے سب کو ایک سا دیکھا نہیں ہوتا یہ کشکول گدائی ہے فقط معذور کو زیبا کبھی محنت کشوں کے ہاتھ میں کاسہ نہیں ہوتا وہ چاہے جیسی بھی ہو ماں کی ممتا کم نہیں ...

مزید پڑھیے

تیرے گھر میں مجھے لے کر کہیں کچھ ہو گیا تھا کیا

تیرے گھر میں مجھے لے کر کہیں کچھ ہو گیا تھا کیا مجھے تو چھوڑ جا پر یہ بتا خط مل گیا تھا کیا نہیں کچھ یاد ہے تم کو خطا دونوں کی تھی لیکن چھوا تھا میں نے ہی تم کو نہیں تم نے چھوا تھا کیا اکیلی رات تھی ہم تم اکیلے کیسے رہ لیتے نہ میں تھا ہوش میں نا تم کہیں کچھ ہو گیا تھا کیا کیوں اب رو ...

مزید پڑھیے

مٹی کا دیا

جھٹپٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا تاکہ رہگیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں راہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑا یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سے روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا گر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیے ہے اندھیرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5261 سے 6203