انقلاب روزگار
بس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیں گڑ گڑ کے علم لاکھوں اکھڑ جاتے ہیں آج اس کی ہے نوبت تو کل اس کی باری بن بن کے یونہی کھیل بگڑ جاتے ہیں
بس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیں گڑ گڑ کے علم لاکھوں اکھڑ جاتے ہیں آج اس کی ہے نوبت تو کل اس کی باری بن بن کے یونہی کھیل بگڑ جاتے ہیں
ہیں جہل میں سب عالم و جاہل ہمسر آتا نہیں فرق اس کے سوا ان میں نظر عالم کو ہے علم اپنی نادانی کا جاہل کو نہیں جہل کی کچھ اپنے خبر
زہاد کو تو نے محو تمجید کیا عشاق کو مست لذت دید کیا طاعت میں رہا نہ حق کی ساجھی کوئی توحید کو تو نے آ کے توحید کیا
کانٹا ہے ہر اک جگر میں اٹکا تیرا حلقہ ہے ہر اک گوش میں لٹکا تیرا مانا نہیں جس نے تجھ کو جانا ہے ضرور بھٹکے ہوئے دل میں بھی ہے کھٹکا تیرا
آبا کو زمین و ملک پر اطمینان اولاد کو سستی یہ قناعت کا گمان بچے آوارہ اور بے کار جوان ہیں ایسے گھرانے کوئی دن کے مہمان
اے وقت بگاڑ کا ہے سب کے چارہ پر تجھ سے بگڑنے کا نہیں ہے یارا ہو جائے گر ایک تو ہمارا ساتھی پھر غم نہیں پھر جائے زمانہ سارا
فتنہ کو جہاں تلک ہو دیجے تسکیں زہر اگلے کوئی تو کیجے باتیں شیریں غصہ غصے کو اور بھڑکاتا ہے اس عارضہ کا علاج بالمثل نہیں
اک مرد توانا کو جو سائل پایا کی میں نے ملامت اور بہت شرمایا بولا کہ ہے اس کا ان کی گردن پہ وبال دے دے کے جنہوں نے مانگنا سکھلایا
اے عشق کیا تو نے گھرانوں کو تباہ پیروں کو خرف اور جوانوں کو تباہ دیکھا ہے سدا سلامتی میں تیری قوموں کو ذلیل خاندانوں کو تباہ
اب ضعف کے پنجہ سے نکلنا معلوم پیری کا جوانی سے بدلنا معلوم کھوئی ہے وہ چیز جس کا پانا ہے محال آتا ہے وہ وقت جس کا ٹلنا معلوم