قومی زبان

آنکھ میری رو رہی ہے

آنکھ میری رو رہی ہے آج دلہن وہ بنی ہے زندگی پر میں ہنسا تھا موت مجھ پر ہنس رہی ہے اس نے کچھ ایسے پکارا ہر طرف اب بے خودی ہے جیتتے ہی جا رہے ہو عشق ہے بازی نہیں ہے ایک تیری یاد ہے اب ایک میری شاعری ہے درد اے تحریر دیکھو اولی ثانی نہیں ہے

مزید پڑھیے

اس کے کنگن سے محبت کی کھنک آتی ہے

اس کے کنگن سے محبت کی کھنک آتی ہے زرد رو راتوں میں چندن کی مہک آتی ہے بھیڑ میں گم ہوئے بچے کی طرح میرا دل دیکھ لوں ماں کو تو آنکھوں میں چمک آتی ہے گاؤں کا گھر گھر کے آنگن میں کھلی وہ تلسی گھر سے اب پاؤں بڑھاتا ہوں سڑک آتی ہے ذکر ہوتا ہے ترا جب بھی کسی محفل میں موت قدموں سے یہ سینے ...

مزید پڑھیے

خدا کو آزمانا چاہتا ہوں

خدا کو آزمانا چاہتا ہوں میں یہ دنیا جلانا چاہتا ہوں کسی شاعر سے اس کی زندگی کے میں سارے غم چرانا چاہتا ہوں میں روح جونؔ کو جنت میں جا کر گلے کس کر لگانا چاہتا ہوں تری چھت پر ٹنگے سب پیرہن سے تری خوشبو چرانا چاہتا ہوں فقط مدہوش ہو کر کیا مزہ ہے میں پی کر لڑکھڑانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

ہو گئی بات پرانی پھر بھی

ہو گئی بات پرانی پھر بھی یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو ہو گئی شام سہانی پھر بھی چشم نم نے اسے جاتے دیکھا دل نے یہ بات نہ مانی پھر بھی لوگ ارزاں ہوئے جاتے ہیں یہاں بڑھتی جاتی ہے گرانی پھر ...

مزید پڑھیے

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے جیسے پہلی بار ملے ہو تم بھی ناں ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں مجھ میں ایسے آن بسے ہو تم بھی ناں عشق نے یوں دونوں کو آمیز کیا اب تو تم بھی کہہ دیتے ہو تم بھی ناں خود ہی کہو اب ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پہلے تم آج ہاتھوں سے دوریاں ناپتے ہو سوچو دلوں میں کس درجہ فاصلہ تھا وبا سے پہلے عجیب سی دوڑ میں سب ایسے لگے ہوئے تھے مکاں مکینوں کو ...

مزید پڑھیے

یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں

یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں سو ہم دامن بچانا جانتے ہیں تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں کھنکتی نقرئی دل کش ہنسی میں ہم اپنا غم چھپانا جانتے ہیں بلانا ہی نہیں پڑتا ہے عنبرؔ یہ غم اپنا ٹھکانہ جانتے ہیں

مزید پڑھیے

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے کچھ دیر کی رم جھم کو معلوم نہیں شاید جل تھل نہ ہو آنگن تو برسات ادھوری ہے کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے محروم تمازت دن شب میں بھی نہیں خنکی یہ کیسا تعلق ہے ہر بات ادھوری ہے

مزید پڑھیے

جب سے زندگی ہوا دل گردش تقدیر کا

جب سے زندگی ہوا دل گردش تقدیر کا روز بڑھ جاتا ہے اک حلقہ مری زنجیر کا میرے حصہ میں کہاں تھیں عجلتوں کی منزلیں میرے قدموں کو سدا رستہ ملا تاخیر سے کس لیے بربادیوں کا دل کو ہے اتنا ملال اور کیا اندازہ ہو خمیازۂ تعمیر کا خون دل جن کی گواہی میں ہوا نذر وفا رنگ تو وہ اڑ گئے اب کیا ...

مزید پڑھیے

ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا

ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا ہر اک امید بر آئے مگر ایسا نہیں ہوتا محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا سبھی کے ہاتھ میں مثل سفال نم نہیں رہنا جو مل جائے وہی ہو کوزہ گر ایسا نہیں ہوتا کہا جلتا ہوا گھر دیکھ کر اہل تماشا نے دھواں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5257 سے 6203