قومی زبان

محبت کا گلشن سجانے لگے ہیں

محبت کا گلشن سجانے لگے ہیں ہم اپنی وفا کو نبھانے لگے ہیں اٹھی تھی جو دیوار نفرت کی دل میں اسے رفتہ رفتہ گرانے لگے ہیں جھکا کر جو نظریں تھے خموش بیٹھے وہی درد اپنا بتانے لگے ہیں جنہیں پیار کے پھول ہم نے تھے بھیجے وہی دل پہ خنجر چلانے لگے ہیں خبر جن کو عیبوں کی اپنے نہیں ہے وہی ...

مزید پڑھیے

مٹاتا ہی رہا خود کو رلاتا ہی رہا خود کو

مٹاتا ہی رہا خود کو رلاتا ہی رہا خود کو جلا کر خط محبت کے بجھاتا ہی رہا خود کو چلا کر فون میں شب بھر کہیں جگجیت کی غزلیں لگا کر کش میں سگریٹ کے جلاتا ہی رہا خود کو ہوا جو قتل خوابوں کا بہا آنسو کا جو دریا تو پھر نمکین پانی میں ڈبوتا ہی رہا خود کو وہ شاعر تھا یا دیوانہ یا کوئی غم ...

مزید پڑھیے

درد کا کوئی انت نہیں ہے

درد کا کوئی انت نہیں ہے اس میں جیون پگھلا جائے دور گلی کے نکڑ پر زرد اداسی کا ڈیرا ہے اور لیمپ پوسٹ کی روشنی میں تنہائی کا بسیرا ہے آنگن میں جب اترے پرندے یادوں کا چوگا ختم ہوا خالی کٹورا درد بھرا تھا درد کا کوئی انت نہیں ہے

مزید پڑھیے

شناخت

میں ایک آزاد وطن کی شہری ہوں اپنے شہر گاؤں گلیوں کھیت کھلیانوں کے سبھی رستوں کو جانتی بن دیکھے سب درختوں کو ان کی خوشبو سے پہچان سکتی ہوں اس مٹی کی قبروں میں میرے آبا کا لمس شامل ہے میں اس کی مہک اپنی روح میں محسوس کرتی ہوں میرے آنگن میں اترتے سب پرندے اسی ہوا میں سانس لیتے ہیں جس ...

مزید پڑھیے

سناٹا چیخ اٹھتا ہے

ہوا لال اینٹوں کی گلیوں سے گزرتی سیلن زدہ کوٹھریوں میں بچے جنتی ہے گھٹی گھٹی سانسیں لیتی ہوئی جب باہر نکلتی ہے تو ٹھنڈ سے کبڑی ہو چکی ہوتی ہے سیدھا چلنے کی خواہش میں اونچے نیچے رستوں پر گھوڑوں کے سموں تلے کیچڑ میں لت پت سر پٹختی اٹھنے کی کوشش کرتی ہے اور رینگتے رینگتے کسی حویلی ...

مزید پڑھیے

مجھے شرمندگی محسوس نہیں ہوتی

جو صدیاں بچھڑ چکی ہیں میں ان میں زندہ رہتی ہوں اور مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی سڑکوں پر تانگے کی ٹاپوں کی صدا اب بھی سنتی ہوں جیسے محو سفر ہوں اور ہوا میرے کانوں میں کچھ راز کہتی ہے پھر کسی گاڑی کے ہارن کی صدا پر چونک جاتی ہوں میں جنگلوں کو تاراج کر کے سڑکیں بنتے دیکھتی ...

مزید پڑھیے

رت جگوں کا مارا وقت

صدیوں کا سفر طے کر کے وقت کے دروازے پر پہنچی تو معلوم ہوا رتجگوں کا مارا وقت دن چڑھے تک سو رہا ہے وہ جو کبھی رکا نہیں کسی کے آگے جھکا نہیں میرے آنے سے پہلے اسے نیند کیوں آ گئی ہتھیلیوں پہ دستکوں کے ہزارہا نشان ہیں اور اسے خبر نہیں شکستگی سمیٹ کر پاؤں میں باندھ لائی ہوں اب آبلوں میں ...

مزید پڑھیے

خوش رنگ و سحر کار نظاروں کو کیا ہوا

خوش رنگ و سحر کار نظاروں کو کیا ہوا اللہ اس چمن کی بہاروں کو کیا ہوا روشن تھیں جن سے بزم تصور کی خلوتیں ان رشک مہر و ماہ ستاروں کو کیا ہوا ساحل کو پا سکی نہ کبھی کشتیٔ حیات دریائے آرزو کے کناروں کو کیا ہوا اپنے پرائے ہو گئے قسمت کے ساتھ ساتھ مجبور زندگی کے سہاروں کو کیا ...

مزید پڑھیے

زندگی درد سے قریب رہے

زندگی درد سے قریب رہے غم کی دولت مجھے نصیب رہے موسم ایسا بھی ہو کوئی صیاد باغ جب وقف عندلیب رہے مسکرا دو کسی کی میت پر موت کیوں تیرہ و مہیب رہے وصل کو وصل جاننے کے لیے زینت بزم اک رقیب رہے جان کا کھیل کھیلنے والو امتحاں کو در حبیب رہے جاگ کر میں نے کاٹ دیں راتیں نیند میں گم ...

مزید پڑھیے

لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دور

لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دور دل سے قریں ہیں اہل وطن اور نظر سے دور جب تک ہے دل رہین مآل و اسیر عقل رہنا ہے تجھ سے اور تری رہ گزر سے دور اے کیف ان کی مست نگاہوں میں چھپ کے آ اے درد دم زدن میں ہو میرے جگر سے دور اک دن الٹنے والی ہے زاہد بساط زہد کب تک رہے گا دل نگہہ فتنہ گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5258 سے 6203