افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں
افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں یوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میں اک اک قدم پہ درس وفا دے رہا ہوں میں یہ کس کی جستجو ہے کدھر جا رہا ہوں میں یا رب کسی کا دام حسیں منتظر نہ ہو پر شوق کے لگے ہیں اڑا جا رہا ہوں میں اس سحر رنگ و بو نے تو دیوانہ کر دیا دامن کے تار تار کو الجھا رہا ہوں ...