قومی زبان

افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں

افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں یوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میں اک اک قدم پہ درس وفا دے رہا ہوں میں یہ کس کی جستجو ہے کدھر جا رہا ہوں میں یا رب کسی کا دام حسیں منتظر نہ ہو پر شوق کے لگے ہیں اڑا جا رہا ہوں میں اس سحر رنگ و بو نے تو دیوانہ کر دیا دامن کے تار تار کو الجھا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں

توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں میں جب مختار ہوں مجبور کی سوگند کیوں کھاؤں مجھے عرش بریں کے جلوۂ دائم سے نسبت ہے کوئی واعظ ہوں میں بھی حور کی سوگند کیوں کھاؤں مرا طور تجلی رات دن ہے میرے پہلو میں نہیں جب آگ لینا طور کی سوگند کیوں کھاؤں مرا ہر نا چکیدہ اشک کا قطرہ ہے بے ...

مزید پڑھیے

لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر جن میں ہو کیف زندگی بہر خدا وہ کام کر طور حیات سے اڑا جذبۂ زیستن کی آگ جب کہیں جا کے نیت زندگی دوام کر پہلے یہ سوچ دام کے توڑنے کی سکت بھی ہے بعد کو دل میں خواہش دانۂ زیر دام کر تجھ کو تری ہی آنکھ سے دیکھ رہی ہے کائنات بات یہ راز کی نہیں اپنا ...

مزید پڑھیے

بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی

بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی شعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی مرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی ہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی عیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں ہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی بار الم اٹھانے کے قابل بنا دیا کیا کم ہوا ہے مجھ پہ یہ احسان زندگی آغاز باب نو ...

مزید پڑھیے

سردی

اف رے یہ سردی کا موسم کانپ رہے ہیں دیکھو تو ہم کیسی کڑاکے کی سردی ہے جیسے ہوا میں برف بھری ہے پہنے ہوئے ہیں کوئی سوئیٹر یا ہے گلے میں اونی مفلر کوئی رضائی اوڑھے بیٹھا چادر میں ہے کوئی لپٹا دستانے اور موزے پہنے گھوم رہے ہیں دیکھو بچے آگ ہے آگے تاپ رہے ہیں کمبل میں لپٹے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

آم

ابا جب بازار سے آئے آتے آتے آم بھی لائے جتنے ہرے تھے سب کچے تھے پکے ہوئے تھے نرم رسیلے کچے تو تھے سخت اور کھٹے دو دو آم دئے تھے ہم کو دو آپا کو دو آدم کو میرے آم بہت میٹھے تھے آدم کے بالکل کھٹے تھے آم کے نام نہ جانے کیا تھے طوطا پری نیلم تھے کیا تھے آم کی نظم امین حزیںؔ کی پڑھ کے منہ ...

مزید پڑھیے

تبدیلی

ایک تھا راجہ ایک تھی رانی کون سنائے اب یہ کہانی اب نہ شیر کو جال میں پکڑے اور نہ چوہا جال کو کترے اور نہ جیتے بازی کچھوا اور نہ رہے خرگوش بھی سوتا چاند کی بڑھیا چلی گئی ہے سوت کاتنا چھوڑ چکی ہے حاتم طائی اور علی بابا سکھی سخاوت اور مرجینہ کوئی سناتا نہیں کہانی نہ تو دادا اور نہ ...

مزید پڑھیے

نیا سال

نیا سال پھر آ گیا دوستو نئے سال کا خیر مقدم کریں پڑھائی کا ہم عزم محکم کریں بلند کامیابی کا پرچم کریں نیا سال پھر آ گیا دوستو نئے حوصلے ہوں نئے ولولے نئی کوششیں ہوں نئے سلسلے ہے دنیا سبھی سکھ کے دامن تلے نیا سال پھر آ گیا دوستو خلائی مسافر کی باتیں کریں ثمر کامیابی کے اپنے ...

مزید پڑھیے

مٹی کا دیا

دیکھو بچو میں ہوں مٹی کا دیا بے حقیقت ہوں مگر ہوں کام کا گیس بتی شمع برقی قمقمے جتنے بھی ہیں سب ہیں میری نسل کے خامشی سے رات بھر جلتا ہوں میں پر زباں سے اف نہیں کرتا ہوں میں خود جلا کرتا ہوں اوروں کے لئے دکھ سہا کرتا ہوں غیروں کے لئے مجھ سے ہے روشن اندھیری رات ہے میری فطرت میں یہ ...

مزید پڑھیے

عید کا منظر

ہلال عید بنا ہے کلید عیش و نشاط جہاں میں بچھ گئی پھر سے مسرتوں کی بساط خوشی سے پھولے سماتے نہیں ہیں مرد و زن مہک اٹھے در و دیوار اور صحن چمن گلی میں کوچوں میں راہوں میں شاہراہوں میں مسرتوں کے نظارے ہیں خانقاہوں میں اندھیرے منہ ہی پرندے بھی چہچہانے لگے قدم قدم پہ لگے میلے شادیانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5224 سے 6203